اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خلیج فارس کا بحران اور مضمرات

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن واستحکام کیلئے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا اور پاکستان کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ممکن ہے اور یہی راستہ دیرپا امن و استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب اشتعال انگیزی عروج پر ہے‘ پاکستان امن کا داعی بن کر سامنے آیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تنازعات کا حل مصالحت‘ ثالثی اور پُرامن مذاکرات سے چاہتا ہے تاکہ خطے کو اُس جنگ سے بچایا جا سکے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کو خاکستر کر سکتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی طویل کساد بازاری میں دھکیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کی جانب سے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز اور اسکے عملے کی پاکستان کے ذریعے واپسی اور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا بطور ثالث ملک پاکستان کی سفارتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے مابین فعال سفارتی پُل کے طور پر متحرک ہے اور پس پردہ مصالحتی کوششیں جاری ہیں‘ مگر ان حالات میں آبنائے ہرمز‘ جسے عالمی معیشت کی شہ رگ قرار دیا جا سکتا ہے‘ اس وقت نئی تزویراتی آزمائش سے گزر رہی ہے جسکے اثرات پوری دنیا کی معیشتوں اور عام صارفین تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں امریکہ کے غیر جانبدار ممالک کے بحری جہازوں کو ریسکیو کرنے کی کارروائی اورجنوبی کوریا اور عرب امارات کے جہازوں پر مبینہ حملوں کی اطلاعات نے اس اہم سمندری گزرگاہ کے غیر محفوظ ہونے سے متعلق نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اماراتی بندرگاہ فجیرہ پر ڈرون حملوں کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں جو خطے میں نئی جنگ کا آغاز ثابت ہو سکتی ہیں۔ بحیرہ عرب اور خلیج فارس کو ملانے والی اہم سمندری راہدری میں جاری کشیدگی بین الاقوامی تجارت بالخصوص شپنگ کمپنیوں کیلئے ڈراؤنا خواب بنتی جا رہی ہے۔ انشورنس کے بڑھتے پریمیم اور عملے کی زندگیوں کو لاحق خطرات نے اس خطے میں بحری تجارت کو پہلے ہی خاصا محدود کر رکھا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی کُل توانائی برآمدات کے بیس سے پچیس فیصد حصے کو راہداری فراہم کرتی ہے۔ اس سے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اگر یہاں کشیدگی کے باعث جہاز رانی معطل ہو جائے تو اس کے کیا مضمرات ہو سکتے ہیں۔ اس کا براہِ راست اثر عالمی افراطِ زر اور معاشی ترقی کی شرح پر پڑتا ہے۔ ایک جائزے کے مطابق 28 فروری سے خطے میں شروع ہونے والی کشیدگی کے باعث خلیج فارس کے خطے میں بحری جہازوں کی آمد و رفت میں 95 فیصد تک کمی آئی ہے‘ تقریباً دو ہزار بحری جہاز اور 20ہزار سے زائد عملہ اس وقت خلیج فارس میں پھنسا ہوا ہے۔

اس بحران کی وجہ سے 2026ء میں عالمی تجارت کی شرحِ نمو جو پہلے 4.7 فیصد متوقع تھی‘ اب کم ہو کر 1.5 سے 2.5 فیصد تک رہنے کا خدشہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے علاقائی مضمرات عالمی اثرات سے کہیں زیادہ سنگین ہیں کیونکہ علاقائی ممالک کی معیشتوں کا مکمل انحصار اسی راستے پر ہے۔ اس بحران کے حل کیلئے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ سمندری حدود کے عالمی قانون کے تحت تمام ممالک کو بین الاقوامی گزرگاہوں سے پُرامن گزرنے کا حق حاصل ہے اور کسی بھی ریاست کی جانب سے ان قوانین کی خلاف ورزی عالمی امن کے خلاف جرم تصور کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس تنازع کو سمیٹنے کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر عالمی برادری کو یکجا ہو کر ایک جامع فریم ورک تشکیل دینا چاہیے تاکہ اس تنازع کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔ متحارف فریقین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جدید دنیا کی بقا کا راز تصادم میں نہیں بلکہ تعاون اور مشترکہ مفادات کے تحفظ میں پوشیدہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں