530 ارب کے فون
پاکستان میں موبائل فون کی بڑھتی درآمدات ایسا معاشی چیلنج بنتی جا رہی ہیں جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق مالی سال 26ء کے دوران 530 ارب 49 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے موبائل فون درآمد کیے گئے‘ جو گزشتہ سال کے 416 ارب 94 کروڑ کے مقابلے میں 27 فیصد زائد ہیں۔ ایسے وقت میں جب تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے کیلئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے‘ تقریباً ایک ارب 90 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ موبائل فونوں کی درآمدات پر صرف کرنا اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اپنی درآمدی ترجیحات پر نظرِ ثانی کریں۔ درآمدات پر انحصار کم کرنے کیلئے ٹیکس کی شرح بڑھانا یا پابندیاں لگانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کیلئے ایک طویل مدتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

گزشتہ سال (جنوری تا نومبر) ملک میں تقریباً دو کروڑ 76 لاکھ موبائل یونٹ تیار یا اسمبل کیے گئے‘ اس استعداد کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں ملکی سطح پر تیار ہونے والے فونز کی قیمت کم اور معیار بین الاقوامی سطح کا بنانے کیلئے سمارٹ فونز کی پروڈکشن میں جدت ناگزیر ہے۔ تکنیکی تربیت کے پروگراموں سے مقامی افرادی قوت کو اس شعبے کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ حکومت‘ نجی شعبے اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان اشتراک ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اس بھاری درآمدی بوجھ کو ڈیجیٹل برآمدات میں منتقل کر سکتے ہیں۔