اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ماحولیاتی سرمایہ کاری

گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے کلائمیٹ لیوی کی مد میں 46 ارب روپے اکٹھے کیے جبکہ رواں ماہ کے آغاز پر ہی پٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ لیوی کو ڈھائی روپے سے بڑھا کر پانچ روپے فی لٹر کر دیا گیا ‘ جس سے مالی سال کے دوران کلائمیٹ لیوی کولیکشن بھی دگنا ہونے کی توقع ہے‘ مگر دوسری جانب بجٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے کلائمیٹ فنڈ میں 29 فیصد کمی کرتے ہوئے اس مد میں محض دو ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا بجا ہے کہ ماحولیاتی لیوی کے نام پر جو ٹیکس لیا جا رہا ہے‘ اس کا مصرف کیا ہے؟ اگر ٹیکس ماحولیات کے تحفظ کے نام پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تو اس رقم کو حکومتی اخراجات یا ٹیکس خسارہ پورا کرنے کے بجائے ماحولیاتی مقاصد کیلئے ہی مختص کیا جانا چاہیے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے‘ ایسے میں ضرورت ہے کہ ماحولیات کی مد میں جمع ہونے والی رقم کو اُن علاقوں میں ماحولیاتی منصوبوں کیلئے صرف کیا جائے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ماحولیاتی منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک کا ماحولیاتی توازن درست ہوگا بلکہ مستقبل میں موسمیاتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جو پیسہ ماحولیات کے نام پر لیا جا رہا ہے‘ وہ زمین کو دوبارہ سرسبز اور محفوظ بنانے پر ہی خرچ ہو۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں