ماحولیاتی سرمایہ کاری
گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت نے کلائمیٹ لیوی کی مد میں 46 ارب روپے اکٹھے کیے جبکہ رواں ماہ کے آغاز پر ہی پٹرولیم مصنوعات پر عائد کلائمیٹ لیوی کو ڈھائی روپے سے بڑھا کر پانچ روپے فی لٹر کر دیا گیا ‘ جس سے مالی سال کے دوران کلائمیٹ لیوی کولیکشن بھی دگنا ہونے کی توقع ہے‘ مگر دوسری جانب بجٹ میں موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے کلائمیٹ فنڈ میں 29 فیصد کمی کرتے ہوئے اس مد میں محض دو ارب 78 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھنا بجا ہے کہ ماحولیاتی لیوی کے نام پر جو ٹیکس لیا جا رہا ہے‘ اس کا مصرف کیا ہے؟ اگر ٹیکس ماحولیات کے تحفظ کے نام پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تو اس رقم کو حکومتی اخراجات یا ٹیکس خسارہ پورا کرنے کے بجائے ماحولیاتی مقاصد کیلئے ہی مختص کیا جانا چاہیے۔

پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے‘ ایسے میں ضرورت ہے کہ ماحولیات کی مد میں جمع ہونے والی رقم کو اُن علاقوں میں ماحولیاتی منصوبوں کیلئے صرف کیا جائے جو ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ماحولیاتی منصوبوں میں زیادہ سرمایہ کاری سے نہ صرف ملک کا ماحولیاتی توازن درست ہوگا بلکہ مستقبل میں موسمیاتی آفات سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات میں بھی کمی آئے گی۔ حکومت کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ جو پیسہ ماحولیات کے نام پر لیا جا رہا ہے‘ وہ زمین کو دوبارہ سرسبز اور محفوظ بنانے پر ہی خرچ ہو۔