جنگ اور اس کے اثرات
امریکہ اور ایران کا تصادم روز بروز خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے اور اس کے اثرات خطے میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ کشیدگی کے آغاز میں متحارب فریقین ایک دوسرے کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنا رہے تھے مگر اب فوجی اور شہری تنصیبات کی تفریق کے بغیر حملے جاری ہیں۔ حالیہ دنوں امریکہ نے ایران میں متعدد پلوں اور ریلوے لائنوں کو نشانہ بنایا اور تازہ اطلاعات کے مطابق ایک زیر تعمیر جوہری بجلی گھر پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے کویت میں سمندری پانی کو صاف کرنے والے ایک پلانٹ پر دو روز میں دوسری بار حملہ کیا۔ ہفتہ کے روز امریکہ نے بھی ایران کے صوبہ ہرمزگاں میں سمندری پانی صاف کرنے والے پلانٹ کو نشانہ بنایا تھا جس سے تقریباً 10 ہزار آبادی والا علاقہ پانی کی فراہمی سے محروم ہو گیا۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں صاف پانی کمیاب ہے اور پانی کی ضروریات کا بڑا حصہ ڈی سیلینیشن پلانٹس سے مہیا ہوتا ہے اس لحاظ سے یہ تنصیبات انسانی زندگی اور بقا کا اہم ذریعہ ہیں اورکسی لحاظ سے بھی ان کا عسکری اہداف سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہی حال پلوں‘ ریلوے لائنوں‘ ہسپتالوں اور سکولوں کا ہے۔

ایسے شہری ٹھکانے ہرگز جنگی ہدف نہیں بننے چاہئیں‘ طرفین کو اس سلسلے میں پوری ذمہ داری اور احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ جنگیں جتنی شدید ہی کیوں نہ ہوں متحارب فریقین کو پیچھے ہٹنے کا راستہ اور بات چیت کی گنجائش رکھنی چاہیے‘ مگر عام شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا نتیجہ دشمنی اور جنگ کی شدت میں اضافے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ امریکہ اور ایران دونوں کو چاہیے کہ فی الفور ایسے غیر عسکری اہداف پر حملے بند کریں۔ شہری آبادی‘ رہائشی علاقے اور غیر فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے اصولوں کے بھی منافی ہے۔ جنگ یا مسلح تنازع کے دوران عام شہریوں‘ ہسپتالوں‘ سکولوں‘ عبادت گاہوں‘ بجلی گھروں اور پانی کی فراہمی جیسے بنیادی ڈھانچے کو تحفظ حاصل ہے اور ان پر حملوں سے ہر صورت گریز کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر‘ 1949 کے جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قانون کی رُو سے بھی متحارب فریق اس بات کے پابند ہیں کہ فوجی اور شہری اہداف میں واضح فرق کریں۔ ان اصولوں کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین اور مروجہ عالمی ضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسی طرح تابکار مادوں کے اخراج کے تباہ کن خطرات کی وجہ سے بین الاقوامی انسانی قانون اور جنیوا کنونشنز کا آرٹیکل 56 جوہری بجلی گھروں اورجوہری تنصیبات پر حملہ ممنوع قرار دیتا ہے۔
یہ پروٹوکولز اور کنونشنز اس یقین کے ساتھ وضع کئے گئے تھے کہ دنیا کے کسی حصے میں دو ملکوں کا تصادم علاقائی اور عالمی مصیبت کا باعث نہ بنے اور تنازعات سے نکلنے اور دشمنی کو ختم کرنے کی گنجائش باقی رہے۔ ان عالمی قواعد کی خلاف ورزی نے عالمی امن کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے ۔ ایران اور امریکہ دونوں کو چاہیے کہ تحمل‘ بردباری اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیں کیونکہ مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ہی دیرپا امن کی ضامن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھی چاہیے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرانے‘ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور تمام فریقین کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر آمادہ کرنے کیلئے مؤثر کردار ادا کریں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکہ اور ایران کے تنازعات کے حل کی ایک مثالی کوشش تھی مگر دونوں فریقوں نے اس مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد ایک دوسرے پر حملے کر کے اس یادادشت کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔لیکن اب بھی آگے بڑھنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ تصادم مختصر ہو یا طویل مدتی‘ کوئی بھی ہمیشہ حالتِ جنگ میں نہیں رہ سکتا۔ امن انسانی بقا کا تقاضا ہے۔ ضروری ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جائے۔