بارشیں اور انتظامی نقائص
ملک بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے جاری مون سون بارشوں اور متعلقہ حادثات میں160 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کو متاثرہ علاقوں کے ہنگامی دورے کرنے اور متاثرین کی فوری امداد اور بجلی و سڑکوں کے نظام کی بحالی کی ہدایات تو کی ہیں مگر اعلیٰ سطحی احکامات اور زمینی انتظامات میں گہرا تضاد دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس انتظامی غفلت کا سب سے بڑا ثبوت اسلام آباد اور راولپنڈی ہے‘ جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے جاری بارشوں کے دوران متعدد علاقے زیر آب آ گئے اور چند گھنٹوں کی بارش نے جڑواں شہروں کے مواصلاتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔

یہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ہائی الرٹ اور شہری سیلابوں کی پیشگی وارننگز کے باوجود کوئی ٹھوس انتظامی پلان دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس تناظر میں دور دراز کے پسماندہ اضلاع کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں‘ جہاں چھ سو ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچانے کے دعوے تو کیے جا رہے لیکن اب بھی ہزاروں خاندان بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ حکومت کو اب روایتی اقدامات سے باہر نکلنا ہو گا۔ جب تک نکاسی آب کے فرسودہ نظام کو درست نہیں کیا جاتا بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی روک تھام ممکن نہیں۔