روٹی بھی مہنگی
پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن انتظامی غفلت کے سبب عوام اکثر و بیشتر بنیادی اشیائے خور ونوش کیلئے بھی ترس جاتے ہیں۔ حالیہ دنوں پنجاب میں تنور مالکان کی جانب سے روٹی کی قیمت میں ازخود اضافہ کر کے نرخ 25 روپے کر دیے گئے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے روٹی کا ریٹ 14 روپے مقرر ہے لیکن مارکیٹ میں یہ ہر جگہ 20 سے 25 روپے میں مل رہی ہے اور انتظامیہ طے کردہ نرخوں پر عمل درآمد کرانے میں ناکام نظر آتی ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ دو وقت کی روٹی تک رسائی بھی اب مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اس معاملے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک میں اس سال گندم کی بھرپور پیداوار ہوئی مگر گندم خریدنے کے حکومتی عمل میں تساہل اور بدلتی پالیسیوں کے باعث ذخیرہ اندوزوں کو فعال ہونے کا موقع مل گیا۔

جب تک گندم کی فراہمی کے پورے نظام اور سپلائی چین کو درست اور کسان سے لے کر تنور تک آٹے کی قیمت کو مستحکم نہیں کیا جاتا تب تک عوام کو سستی روٹی فراہم نہیں کیا جا سکتی۔ اسی طرح بیشتر تنور ایل پی جی استعمال کرتے ہیں اوراس کے مارکیٹ نرخ بھی حکومتی نرخوں سے تقریباً دگنے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو سب سے پہلے ان وجوہات کا تدارک کرنا چاہیے جو روٹی کو ناقابلِ رسا بنانے کی ذمہ دار ہیں۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کے ساتھ ساتھ تنوروں کو آٹے اور گیس کی مقررہ نرخوں پر فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے تاکہ روٹی کی قیمت میں توازن اور استحکام آ سکے۔