اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور غذائی بحران کا بڑھتا خطرہ

ملکِ عزیز کی آبادی پچھلے 76 برس میں 3.7 کروڑ سے بڑھ کر 25.9 کروڑ تک پہنچ چکی ہے اور اس میں 2.5 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑی آبادی کیلئے جو سب سے بڑے چیلنجز ہیں ان میں خوراک کا مسئلہ سرفہرست آتا ہے۔ پاکستان میں خوراک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ملک میں گندم‘ چاول‘ سبزیاں اور دیگر اشیائے خور ونوش کافی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہر شہری کو مناسب مقدار میں محفوظ‘ معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت حاصل ہے؟ بدقسمتی سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ مہنگائی‘ غربت‘ بیروزگاری اور کم آمدنی نے لاکھوں خاندانوں کیلئے خوراک تک رسائی مشکل بنا دی ہے۔ ملک میں خوراک کی قیمتوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران آنے والے بڑے اتار چڑھاؤ نے کم آمدنی والے طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں غریب گھرانوں کی تقریباً 45 فیصد آمدنی خوراک پر خرچ ہو جاتی ہے؛ چنانچہ جب آٹا‘ چاول‘ دالیں‘ دودھ‘ گوشت‘ سبزیاں اور دیگر ضروری اشیا مہنگی ہوتی ہیں تو کم آمدنی والے گھروں کے پاس تعلیم‘ صحت اور دیگر ضروریات کیلئے بہت کم رقم بچتی ہے۔

ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان کی 48 فیصد آبادی عالمی خط غربت (4.2 ڈالر یومیہ آمدنی) سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ صرف خوراک کی پیداوار بڑھانا کافی نہیں عوام کی قوتِ خرید ہونا بھی ضروری ہے۔ خوراک کی عدم دستیابی یا ناقص غذا کا سب سے خطرناک اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں 40 فیصد سٹنٹنگ کا شکار ہیں۔ سٹنٹنگ محض قد چھوٹا رہ جانے کا نام نہیں بلکہ ذہانت پر بھی اس کے قابل ذکر اثرات ہوتے ہیں اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تقریباً ابتدائی تین سال کے بعد سٹنٹنگ کے اثرات کی تلافی ممکن نہیں رہتی۔ اس کے علاوہ سوکڑے کی شرح پاکستان میں 17.7 فیصدریکارڈ کی گئی ہے جبکہ ڈبلیو ایچ او کے مطابق ایمرجنسی کی حد 15 فیصد ہے۔ زندگی کے ابتدائی ہزار دنوں میں مناسب غذا نہ ملنے سے بچے کی جسمانی اور ذہنی نشوونما پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں وہ تاعمر ختم نہیں ہو پاتے۔ اس کا اثر ان کی تعلیمی کارکردگی‘ کام کرنے کی صلاحیت اور مستقبل کی آمدنی پر بھی پڑتا ہے۔

یوں آج کا غذائی بحران کل کے انسانی سرمائے کے بحران میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا ایک اہم پہلو خوراک کی کمی ہے۔ تازہ آئی پی سی جائزے کے مطابق دسمبر 2025ء سے مارچ 2026ء کے دوران تقریباً 75 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کی بدتر سطح پر تھے‘ جن میں تقریباً سوا لاکھ افراد ایمرجنسی مرحلے میں تھے۔ معاشی اسباب کے علاوہ سیلاب‘ خشک سالی‘ گرمی کی لہریں اور دیگر موسمیاتی چیلنجز بھی خوراک کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اس بحران کا حل صرف سبسڈی یا چند دنوں کیلئے سستا آٹا فراہم کرنا نہیں بلکہ حکومت کو ایک جامع قومی فوڈ سکیورٹی پالیسی بنانا ہو گی۔ سب سے پہلے کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے غذائی تحفظ کے پروگرام شروع کرنے کی ضرورت ہے ‘ ایسے پروگرام جو بچوں کی کم خوراکی کے مسائل کا ازالہ کر سکیں۔ دوسرے‘ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی‘ بہتر بیج اور ذخیرہ کرنے کی سہولتوں کی ضرورت ہے تاکہ خوراک کی پیداوار بڑھائی جا سکے۔

خوراک کی مہنگائی یا کمی کو محض زرعی پیداوار کا مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی سلامتی‘ انسانی ترقی اور معاشی پالیسی کا مرکزی حصہ بنانا ہو گا۔ سستی خوراک‘ بہتر آمدنی‘ مضبوط سماجی تحفظ‘ جدید زراعت اور بچوں کی غذائیت پر مسلسل سرمایہ کاری ہی اس بحران کا پائیدار حل ہے۔ اگر آج ہم بچوں کی خوراک اور غذائیت کو نظر انداز کریں گے تو آنے والی نسلیں کمزور صحت‘ کم تعلیم اور کم پیداواری صلاحیت کی صورت میں اس غفلت کی قیمت ادا کریں گی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں