چھری مار چھلاوے کیلئے پولیس کی غیر سنجیدگی عدالت میں عیاں ہو گئی
پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کارروائی کو خانہ پری قرار دیتے ہوئے اعتراضات داخل کر دیے ملزم کو پکڑنے میں ناکام ہیں، علاقے میں مخبری کا نیٹ ورک بڑھا دیا، پولیس کا اعتراف
کراچی (رپورٹ:محمد منصٖف) عوام میں خوف و ہراس پھیلانے والے چھری مار جنونی ملزم کے خلاف پولیس کی ناقص تفتیش و غیر سنجیدگی عدالت میں عیاں ہو گئی۔ چھری مار جنونی ملزم کے خلاف درج ہونے والے مقدمات پر ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کی کارروائی کو خانہ پری قرار دیتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل نہ کرنے اور مقدمات میں سینئر ، قابل انسپکٹر سطح کے تفتیشی افسران تعینات نہ کرنے پر عدالت میں اعتراضات داخل کردئیے ہیں۔ پولیس نے عدالت کے سامنے ملزم کی گرفتاری میں ناکامی کا اعتراف بھی کر لیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں چھرا مار جنونی ملزم کے خلاف درج 7 مقدمات میں تفتیشی افسران پیش ہوئے اور مقدمات کی تفصیلات فاضل عدالت میں پیش کر دیں ، جس میں پولیس نے عدالت کے سامنے اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ گلستان جوہر میں چھری سے خواتین پر حملہ کرنے والے جنونی ملزم کی گرفتاری میں اب تک مکمل طور پر ناکام ہیں تاہم علاقے میں مخبری کا نیٹ ورک بڑھا دیا گیا ہے ، امید ہے عوام میں خوف وہراس پھیلانے والا ملزم جلد گرفت میں آجائے گا ، اس موقع پر کمرہ عدالت میں موجود سرکاری وکیل نے فاضل عدالت کو بتایا کہ جنونی ملزم نے پورے شہر میں خوف وہراس پھیلا رکھا ہے ، لیکن پولیس کی غفلت اور غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ملزم کے خلاف درج کیے گئے مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل ہی نہیں کی گئیں، درج مقدمات میں تفتیشی افسران کی تعیناتی بھی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ سرکاری وکیل نے فاضل عدالت سے استدعا کی کہ مقدمات میں سینئر اور قابل انسپکٹر سطح کے تفتیشی افسران تعینات کرنے کا حکم دیا جائے اور جنونی ملزم کے خلاف درج مقدمات میں انسداد دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کی بھی ہدایات دی جائیں۔ مقدمات کی تفصیلات کے مطابق مقدمہ الزام نمبر 489/2017 میں مدعی مقدمہ شاہدہ پروین نے بتایا کہ وہ رابعہ سٹی بلاک نمبر 18 گلستان جوہر کی رہائشی ہیں اور 25ستمبر 2017 کو رات 11بجے اپنی بیٹی عروسہ کے ساتھ گھر کا سودا خریدنے کے لئے جا رہی تھیں کہ راستے میں اچانک موٹر سائیکل سوار لڑکے (جس نے ہیلمٹ اور سیاہ شرٹ پہنی ہوئی تھی)نے تیز دھار آلے سے میری بیٹی پر حملہ کیا جس سے وہ زخمی ہوگئی ، ہم نے شور کیا تو حملہ آور موقع سے فرار ہو گیا ، جس کے بعد ہم رکشے میں بیٹھ کر دارالصحت اسپتال چلے گئے ۔ مقدمہ الزام نمبر 490/2017 میں مدعی رضا محمد نے بتایا کہ وہ کنگ ریزیڈنسی بلاک 13گلستان جوہر میں اپنی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں، انکی اہلیہ حنا رضا اور محلہ کی ایک خاتون رات 10 بجے علاقے میں موجود اسٹور سے سامان خریدنے کے لئے جارہی تھیں کہ موٹر سائیکل پر سوار لڑکے نے تیز دھار آلے سے اہلیہ پر حملہ کیا ، جس سے وہ زخمی ہوگئیں ، اسے دارالصحت اسپتال میں طبی امداد دی گئی ۔مقدمہ الزام نمبر 491/2017میں مدعی بابر اسرار نے بتایا کہ میں گلستان جوہر بلاک 15 میں رہائش پذیر ہوں ، 25ستمبر کو میری بہن ردا اور والدہ گھر کا سودا لینے کے لئے باہر گئی تھیں وہ میٹرو پولیٹن اسکول کے قریب پہنچی ہی تھیں کہ اچانک موٹر سائیکل پر سوار لڑکے نے میری بہن پر کسی تیز دھار چیز سے وار کیا جس سے وہ زخمی ہوگئی۔ حملے کے بعد موٹر سائیکل سوار موقع سے فرار ہوگیا ،میری والدہ فوراً میری بہن کو لیکر اسپتال گئیں اور اب وہ علاج معالجے کے بعد گھر میں زیر علاج ہے ۔ حملہ آور کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ مقدمہ الزم نمبر 492/2017میں مدعیہ فہیم النساء نے بتایا کہ وہ بلاک 12گلستان جوہر کی رہائشی ہیں، وہ اپنی بیٹی زارا کے ساتھ بلاک 15نزد گلشن امین فلیٹ کے قریب روڈ پر واک کررہی تھیں کہ موٹر سائیکل پر سوار لڑکے جس نے ہیلمٹ اور چیک والی فل آستین کی شرٹ پہن رکھی تھی اور اس کے گھنگریالے بال تھے ، نے میری بیٹی زارا پر تیز دھار آلے سے حملہ کیا ، جس سے وہ زخمی ہوگئی ۔ ملزم کو سامنے آنے پر شناخت کرسکتی ہوں ۔ مقدمہ الزام نمبر 501/2017میں مدعی حسن الدین نے بتایا کہ میں گلشن جمال بلاک سی کا رہائشی ہوں ، میری بھتیجی سونیا کسی کام کے لئے گھر سے باہر گئی تھی جہاں موٹر سائیکل پر سوار لڑکا جو لال رنگ کا ہیلمٹ اور بادامی رنگ کی شلوار قمیض پہنے ہوئے تھا، نے میری بھتیجی پر تیز دھارآلے سے وار کیا جس سے وہ زخمی ہوگئی ۔ مقدمہ الزام نمبر 02/2017میں مدعی غلام اکبر نے بتایا کہ وہ بلاک 10-Aڈالمیا کا رہائشی اور رکشہ ڈرائیور ہے۔ 4اکتوبر 2017کو اس کی بیٹی نورین رات 8بجے کے وقت باہر گئی تھی اور جب واپس آرہی تھی تو موٹر سائیکل پر سوار کالے رنگ کا ہیلمٹ پہنے ہوئے ایک لڑکا تیز دھار آلے سے میری بیٹی پر حملہ کرکے فرار ہوگیا۔