بھارتی خریداری سے عالمی مارکیٹ میں کپاس نرخ بڑھنے کا خدشہ
بھارت میں 11 فیصد درآمدی ڈیوٹی ختم، اثرات پاکستان پر پڑسکتے ، زرعی ماہرین
پنگریو(نمائندہ دنیا)بھارت کی جانب سے کپاس کی خریداری کے باعث عالمی مارکیٹ میں نرخ بڑھنے کا خدشہ ہے ، بھارتی فیصلے سے عالمی کپاس مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستانی روئی کے نرخ ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے ، سندھ کے پھٹی کے کاشتکار بہتر نرخوں کے لیے پرامید ہوگئے ۔ بھارت کی جانب سے درآمدی کپاس پر عائد 11 فیصد ڈیوٹی ختم کیے جانے کے بعد عالمی کپاس مارکیٹ میں نئی صورتحال جنم لے رہی ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے کی کپاس تجارت پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے ۔ زرعی و تجارتی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سپلائی چین کو درپیش چیلنجز برقرار رہے اور درآمدی روئی کی دستیابی متاثر ہوئی تو پاکستان میں کپاس کے نرخ نئی تاریخی بلندیاں چھو سکتے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق بھارت کا حالیہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کی بڑی ٹیکسٹائل معیشتیں مستقبل میں کپاس کی رسد کے حوالے سے خدشات محسوس کر رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی طلب میں اضافے اور رسد میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کی صورت میں پاکستانی روئی کی مانگ بڑھ سکتی ہے جس سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر مثبت اثرات مرتب ہونگے ۔ پاکستان میں رواں سیزن کے دوران کپاس کے زیرکاشت رقبے اور پیداوار کے حوالے سے مختلف اندازے سامنے آ رہے ہیں، تاہم زرعی ماہرین موجودہ موسمی حالات کو مجموعی طور پر فصل کیلئے سازگار قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پنگریو اور سندھ کے کاٹن بیلٹ کے دیگر اضلاع میں اس سال تاحال پھٹی کی فصل مجموعی طور پر بہتر دکھائی دے رہی ہے ۔ مقامی کاشتکاروں کے مطابق فصل کی صورتحال گزشتہ برس کے مقابلے میں زیادہ تسلی بخش ہے ۔ سندھ کے کاشتکار نئی عالمی صورتحال کے پیش نظر بہتر نرخ ملنے کی امید رکھتے ہیں۔