خاتون دیکھ کر ماشا اللہ کہنا ہراسیت
و فاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کہا ہے
لاہور(آئی این پی)و فاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کشمالہ طارق نے کہا ہے کہ کسی کو گڈ مارننگ تو کیا کسی کی مرضی کے خلاف السلام علیکم کہنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اسی طرح کسی کو دیکھ کر طنزاً ماشا اللہ کہنا بھی ہراسیت ہی ہے ۔ اگر ماشا اللہ عام گفتگو میں استعمال کر رہے ہیں تو یہ یقینی طور پر ہراسیت نہیں ہے لیکن جیسے کچھ لوگ گزرتے گزرتے آوازیں کستے ہیں یا کسی خاتون کو دیکھ کر چشمِ بددور یا ماشا اللہ کہتے ہیں تو ایسی صورت میں یہ ہراسیت ہے ۔اپنے ایک انٹر ویو میں کشمالہ طارق نے کہا کہ جہاں تک عورتوں کا معاملہ ہے اگر کوئی خاتون کسی کے سلام کے میسج کا ایک بار میں جواب نہیں دیتی تو بار بار اسے السلام علیکم کا پیغام بھیجنا بھی ہراسیت ہی ہے ۔ خواتین کو زیادہ تر کام کی جگہ پر ہراسیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔