لاہورہائیکورٹ:اعلیٰ بیوروکریسی کیخلاف توہین عدالت کی،28 درخواستوں کی سماعت،نوٹسز جاری
چیف سیکرٹری پنجاب ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا سمیت دیگر افسران کی جانب سے معافیاں مانگنے کے باوجود عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ رکنے کا سلسلہ جاری ہے
لاہور(محمداشفاق سے )بیوروکریسی کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں میں کمی نہ آسکی۔ گزشتہ روز چیف سیکرٹری ،آئی جی سمیت 27 افسران کے خلاف توہین عدالت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی ،عدالتوں نے احکامات پر عمل نہ کرنے والے افسران کو نوٹسز جاری کردئیے ۔ دوران سماعت درخواست گزاروں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ عدالتی احکامات پرافسران نے عملدرآمد نہیں کیا،استدعا ہے کہ حکم عدولی پران افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے ۔سائلین اور وکلا کا کہنا ہے کہ بیوروکریٹس نے عدالتوں میں غیرمشروط معافیاں اورپھرعدالتی نافرمانیاں کرنا معمول بنالیا،عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد نہ ہونے سے انہیں پریشانی کاسامنا ہے ۔ صدر لاہورہائیکورٹ بار طاہر نصراللہ وڑائچ کاکہنا ہے جب تک حکم عدولی کرنے والے افسر کو سزا نہیں ملے گی یہ سلسلہ نہیں رکے گا ۔ ایڈووکیٹ ندیم سرور کاکہنا ہے توہین عدالت کی درخواستوں سے سائلین کو مالی طور پر اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑتاہے جبکہ ان مقدمات سے ہائیکورٹ میں مقدمات کا بوجھ بڑھ رہا ہے ۔