پنجاب اسمبلی اجلاس پھرتلخ جملوں، ارکان کی عدم دلچسپی کی نذر
لاہور(سیاسی نمائندہ)پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر تلخ جملوں اور ارکان کی عدم دلچسپی کی نذر ہو گیا۔پری بجٹ پربحث کیلئے حکومت و اپوزیشن کے صرف 15ارکان موجود تھے ،وزراتک موجود نہ تھے ۔
اجلاس دو گھنٹے سولہ منٹ تاخیر سے پینل آف چیئر مین سمیع اللہ خان کی زیرصدارت شروع ہوا۔ دوسرے روز بھی اپوزیشن کا شدیداحتجاج، ارکان نعرے بازی کرکے ایوان میں آئے ۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچرنے وزرااورارکان کی غیر سنجیدگی پر اظہارافسوس کرتے ہوئے کہا غیر سنجیدگی کیوں دکھائی جا رہی ہے ۔اجلاس میں میجر حمزہ اسرار شہید و دیگر انتقال کر جانے والوں کیلئے دعاکرائی گئی۔ وقفہ سوالات میں پارلیمانی سیکرٹری رشدہ لودھی نے یقین دہانی کرائی کہ محکمہ سپیشلائزڈہیلتھ منشیات کے عادی افراد کاسرکاری ہسپتالوں میں علاج کا طریقہ کار وضع کرے گا تاہم وہ ممبران کے سوالوں کے تسلی بخش جواب نہ دے سکیں جس پر برہم ممبران کا کہنا تھا کہ اس غلطی پر محکمہ کیخلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔حکومتی رکن امجد جاوید اور رشدہ لودھی میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا،امجد جاوید نے کہا محکمہ کہہ رہا ہے کہ پنجاب میں دل کے مریض کم ہو گئے ، لمبی لائنوں پراگر مریض ہسپتالوں سے واپس چلے جائیں تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ کم ہو گئے ،بتایا جائے ایف آئی سی میں کتنے مریضوں کا علاج کیا گیا ۔ کرنل (ر)شعیب نے کہا ڈی ایچ کیو لیہ میں دوائیوں کی کمی کو پورا کیا جائے ۔ صلاح الدین کھوسہ، اقبال خٹک ودیگر نے پر ی بجٹ پربحث میں حصہ لیا۔مولانا الیاس چنیوٹی نے کہاپچھلے دور میں شہباز شریف نے چنیوٹ میں سٹیل ملز منصوبے کا اعلان کیا تھا مگر اب تک منصوبے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔چنیوٹ سے سرگودھا تک ڈبل روڈ بنایا جائے ۔چنیوٹ میں میڈیکل کالج ضروری ہے ۔ قاضی احمد سعید نے کہا ضلع رحیم یار خان کوتقسیم کریں لیاقت پور کو ڈسٹرکٹ اور خان بیلا کو تحصیل بنایا جائے تو علاقے میں ترقی ہو گی۔فرزانہ کنول نے کہا بجلی نرخ کم اور کسان کو سہولیات دی جائیں۔ تحصیل حاصل پور کو ضلع کا درجہ دیا جائے ، شعیب صدیقی میچز پرٹریفک کی بدحالی پر پھٹ پڑے اور کہاقدافی سٹیڈیم میں فائیوسٹار ہوٹل بناکر ٹیمیں وہاں رکھی جائیں جس پر پینل آف چیئر مین نے کہاآپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ہائوس کی طرف سے پی سی بی کو گزارش جانی چاہئے ۔ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس آج جمعہ کو صبح دس بجے تک ملتوی کردیا گیا۔