سوئی گیس کنکشن پر پابندی برقرار ہے،آرایل این جی کے بل زیادہ آئینگے:حکومت
عوام کو جلد بجلی نرخوں میں تبدیلی نظر آئیگی:وزیر قانون،الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی آرڈیننس میں مزید ترمیم کا بل پیش یو اے ای کیساتھ ویزا فری انٹری پر بات چیت جاری ،گیس کنکشنز کی ڈھائی لاکھ درخواستیں زیرِ التوا ہیں ،اسمبلی وقفہ سوالات
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار) قومی اسمبلی میں حکومت نے صارفین کو بڑی خوشخبری سناتے ہوئے کہا عوام کو جلد بجلی کے نرخوں میں تبدیلی نظر آئے گی۔یو اے ای کیساتھ ویزا فری انٹری پر بات چیت جاری ہے جبکہ سوئی گیس کنکشن پر پابندی برقرار ہے ،آرایل این جی کے بل زیادہ آئینگے ۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں توانائی پالیسی اور سولرائزیشن منصوبے پر بحث ہوئی، وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیرِاعظم سولرائزیشن منصوبے پر واضح موقف رکھتے ہیں، اس منصوبے کے لیے بڑی رقم مختص کی گئی ہے اور اس پر عملدرآمد جاری ہے ۔وزیرِ قانون کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ ختم کرنے کی تجویز ہر بار کابینہ نے مسترد کی، حکومت عوام دوست توانائی پالیسی پر قائم ہے ، آئی پی پیز سے متعلق احکامات جاری کیے جا چکے ہیں اور ان پر عمل بھی جاری ہے ۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بجلی کے نرخ 50 روپے سے کم ہو کر 32 سے 35 روپے فی یونٹ تک آگئے ، عوام کو جلد بجلی کے نرخوں میں تبدیلی واضح طور پر نظر آئے گی۔وزیرِ قانون نے یقین دلایا کہ ہائوس کے جذبات کابینہ میں پیش کروں گا، عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑوں گا۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری توانائی پٹرولیم ڈویژن میاں خان بگٹی نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت سوات میں آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،سوئی گیس کے نئے کنکشن پر پابندی تاحال برقرار ہے ۔ سوات میں 721 کلومیٹر کی گیس پائپ لائن ہے ،اس میں وہاں مقامی47 ہزار کنکشن ہیں، وہاں سکیورٹی سمیت دیگر ایشوز ہیں،وہاں پر آرایل این جی کے نئے کنکشن دیئے جاسکتے ہیں،سوئی گیس کے نئے کنکشن نہیں دیئے جاسکتے ۔ حکومت کی پالیسی کی وجہ سے آرایل این جی کی جہاں درخواست آئے گی،اس پر عمل ہوگا۔جس کی طرف سے پہلے درخواستیں آئیں گی انہیں پہلی ترجیح پر کنکشن دیا جائے گا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کی رپورٹس اورپاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 میں مزید ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا ۔ وفاقی وزیر طارق فضل نے وزیر اطلاعات و نشریات کی جگہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس 2002 میں مزید ترمیم کرنے کا بل پیش کیا۔تسویہ مالی انتظامات بل 2025 قومی اسمبلی میں پیش کردیاگیا۔ طارق فضل نے وزیر خزانہ کی جگہ تسویہ جاتی حقوق اور ضمانتی انتظامات کے نفاذ کے لئے احکام وضع کرنے کا بل پیش کیا۔ علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست پروازیں جلد شروع ہوں گی اور تجارتی روابط مضبوط ہو رہے ہیں۔وزارتِ خارجہ کے مطابق فن لینڈ میں تقریباً 9 ہزار پاکستانی مقیم ہیں۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی سہولت کے لیے پاسپورٹ، نائیکوپ، ویزا اجرا اور پاور آف اٹارنی کی تصدیق کا نظام ڈیجیٹل کر دیا گیا ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ این ایچ اے میں بھرتیاں مکمل میرٹ پر کی جا رہی ہیں، بلوچستان کا صوبائی کوٹہ چھ فیصد ہے اور اس کی نمائندگی مناسب ہے ۔وزارتِ توانائی کے مطابق زرعی و صنعتی صارفین کے لیے تین سالہ رعایتی پاور پیکیج نافذ کیا گیا ہے جس سے تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات میں 193 ارب روپے کمی آئی ہے ۔
پارلیمانی سیکرٹری مواصلات نے بتایا کہ سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ طرز پر زیرِ تعمیر ہے جبکہ حیدرآباد-سکھر موٹروے کے دو سیکشنز پر جلد کام شروع ہوگا۔وزارتِ پٹرولیم کے مطابق ملک کی پٹرول کی طلب کا 70 فیصد درآمد کیا جاتا ہے ، جبکہ ریفائنریوں کو یورو 5 معیار پر لانے کے لیے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے ۔وزارتِ توانائی نے بتایا کہ حیسکو اور سیپکو پر ٹرانسمیشن نقصانات اور ریکوری میں کمی پر نیپرا نے جرمانے عائد کیے تاہم کمپنیوں کے مطابق وضاحتوں کو نظرانداز کیا گیا۔وفاقی وزیر طارق فضل نے کہا کہ آر ایل این جی کنکشن وزیراعظم کی ہدایت پر لگائے جا رہے ہیں لیکن صارفین مدنظر رکھیں کہ اس کا بل سوئی گیس سے زیادہ ہوگا۔ گیس کنکشنز کی دو لاکھ پچاس ہزار درخواستیں زیرِ التوا ہیں جنہیں ترجیحی بنیاد پر نمٹایا جا رہا ہے ۔وزارتِ خارجہ نے بتایا کہ یو اے ای کے ساتھ ویزا فری انٹری پر بات چیت جاری ہے ، چند اضلاع سے غیرقانونی سرگرمیوں کے باعث ویزا فراہمی میں سختی کی گئی ہے ۔وزارتِ انسانی حقوق کے مطابق خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کی بعض دفعات کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے ۔مولانا غفور حیدری نے کہا کہ ماضی میں ٹرانس جینڈر بل پر علمائے کرام کے فتوے حاصل کیے گئے تھے جن میں واضح کیا گیا کہ جنس کی تبدیلی قرآن و سنت کے منافی ہے ، اگر ایسی قانون سازی دوبارہ کی گئی تو احتجاج کیا جائے گا۔