گورننس سسٹم میں بہتری کیلئے حکومت کو عوام کے قریب لانا چاہئے:میاں عامر محمو د

گورننس  سسٹم  میں  بہتری کیلئے  حکومت  کو  عوام  کے  قریب  لانا  چاہئے:میاں  عامر  محمو د

ہمارے صوبے کئی ملکوں سے بڑے ، بجٹ آبادی کے تناسب سے ہونا چاہیے ،ہرپارٹی زیادہ صوبوں کے حق میں ہے لیڈرشپ کا ماڈل اسوۂ حسنہ سے بڑھ کر کوئی نہیں :چیئرمین دنیا میڈیا گروپ کا چھٹی ریکٹرز کانفرنس سے خطاب لوکل گورنمنٹ سسٹم مضبوط کئے بغیر گورننس میں تبدیلی ممکن نہیں ،نوجوان ہی ملک کا مستقبل ہیں:عطا تارڑ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹر،دنیا نیوز)چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمارے بڑے شہروں میں بھی سہولتوں کا فقدان ہے ، ہمارے صوبے کئی ملکوں سے بھی بڑے ہیں، پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنا د یا جائے ۔گورننس سسٹم میں بہتری کیلئے ہمیں حکومت کو عوام کے قریب لانا چاہئے ۔دنیا میں صرف 12 ملک ہیں جو پنجاب سے بڑے ہیں، ہمارے تمام صوبے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ پنجاب میں 10، سندھ میں 7، کے پی میں 7، بلوچستان میں 6 صوبے بن سکتے ہیں۔ تمام پارٹیاں زیادہ صوبوں کے حق میں ہیں۔ ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (ایپ سپ)کے زیرِ اہتمام چھٹی ریکٹرز کانفرنس کا انعقاد ہوا جس میں ملک بھر سے سرکاری اور نجی جامعات کے 150 سے زائد سربراہان نے شرکت کی۔ چھٹی ریکٹرز کانفرنس میں مقررین نے گورننس سسٹم، قیادت کے مسائل اور اعلیٰ تعلیمی اصلاحات جیسے موضوعات پر گفتگو کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ہم جس فورم پر بھی گئے ہمیں مثبت رسپانس ملا، لیڈرشپ ہمیشہ مڈل کلاس سے نکلتی ہے ، لیڈر قوموں کی ترقی کے فیصلے کرتا ہے یا تنزلی کا باعث بنتا ہے ،ہمیں صحیح معنوں میں حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانا چاہئے ، آپ ایمانداری سے اپنی بہترین صلاحیتیں استعمال کرسکتے ہیں، لیڈرشپ کا ماڈل اسوۂ حسنہ سے بڑھ کر کوئی نہیں ۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی کتاب بتاتی ہے کہ آخرت کا بھی ایک دن مقرر ہے ، جو کچھ انسان دنیا میں کر رہا ہے اس کا جواب دینا پڑے گا، گورننس سسٹم میں بہتری کیلئے ہمیں حکومت کو عوام کے قریب لانا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑے شہروں پر دیگر شہروں کا اتنا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ بھی مسائل میں ہوتے ہیں، ادارے تب کمزور ہوتے ہیں جب افراد زیادہ طاقتور ہو جاتے ہیں، ادارے کمزور ہوجائیں تو جو پرفارمنس ان کی ہونی چاہیے وہ نہیں دکھا پاتے ۔

دنیا میں صرف 12 ممالک پنجاب سے بڑے ہیں۔میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ چین کے 31 صوبے ہیں، انڈیا کے 9 صوبے تھے ، اب 39 صوبے ہیں، نائجیریا کے 27 صوبے ہیں، روس کے 46 صوبے ہیں، ہمارا ایک صوبہ اتنا بڑا ہے کہ پاکستان کے نصف سے زیادہ ہے ، ایک صوبے کا اتنا بڑا ہونا دنیا بھر میں کہیں بھی نہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب بڑا صوبہ ہونے کی وجہ سے این ایف سی ایوارڈ بھی زیادہ لیتا ہے ، پنجاب 2 کروڑ کی آبادی کا صوبہ تھا جو اب 12 کروڑ سے تجاوز کر چکا، پاکستان 3 کروڑ آبادی کا ملک تھا، اب 25 کروڑ آبادی ہے ۔میاں عامر محمود نے کہا کہ دنیا میں صرف 12 ملک ہیں جو پنجاب سے بڑے ہیں، ہمارے تمام صوبے دنیا کے کئی ممالک سے بڑے ہیں۔ پنجاب میں 10، سندھ میں 7، کے پی میں 7، بلوچستان میں 6 صوبے بن سکتے ہیں۔ پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیا جائے ، تمام انتظامی صوبوں کا بجٹ ان کی آبادی کے تناسب سے ہونا چاہیے ۔میاں عامر محمود نے کہا کہ پنجاب 60 ہزارسکول چلا رہا ہے ، یہ سکول جس طرح سے چل رہے ہیں سب کو معلوم ہے ، گورنمنٹ سکول کا رقبہ زیادہ ہوتا ہے لیکن پڑھائی نہیں ہوتی۔ سکول اتنے زیادہ ہیں کہ ماضی میں فوج کو گنتی کرنے کیلئے بلایا گیا، جب محکمہ تعلیم سکولوں کی گنتی نہیں کرسکتا تو چلا کیسے سکتا ہے ؟ تمام پارٹیاں زیادہ صوبوں کے حق میں ہیں۔ ہر پارٹی زیادہ صوبوں کے حق میں ہے ، بینظیر شہید نے بھی ڈسٹرکٹ گورنرز لگانے کی بات کی، مسلم لیگ ن نے بھی متعدد بار کئی صوبے بنانے کی بات کی، جب کوئی لیڈر ڈلیور نہیں کر پاتا تب وہ صوبائیت کا نعرہ لگاتا ہے ، صوبائیت کا نعرہ ووٹ لینے کیلئے لگایا جاتا ہے ۔ ہمارے پاس تمام اداروں میں مسائل موجود ہیں، سپریم کورٹ کے ایک جج کے پاس ساڑھے 3 ہزار تک کیسز ہیں، اتنے زیادہ کیسز نمٹانا ایک معزز جج کیلئے آسانی سے ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں میں بھی ایسے ہی مسائل ہیں، ہم نوجوانوں کو تربیت دینا چاہتے ہیں کہ وہ بنیادی ڈھانچے پر کام کریں، پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط اور منظم ہوگا تو ادارے مضبوط ہوں گے ، ادارے مضبوط ہونے سے وہ ٹھیک طرح سے کام کرسکیں گے ۔میاں عامر محمود نے کہا کہ ہمارے 25 ملین بچے سکول نہیں جاتے ، بھارت کے 2 ملین بچے سکول نہیں جاتے ، بھارت آبادی میں ہم سے کئی گنا بڑا ملک ہے ۔خاندانی لیول پر بھی مسائل کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، ہم 1000 سال تک غلامی کا شکار رہے ہیں، مسلم حکمرانی کے دور میں بھی سوال کرنے کی اجازت نہیں تھی۔میاں عامر محمود نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں تفکر اور سوال اٹھانے کا حکم دیا ہے ، سوال کرنے سے مسائل اجاگر ہوتے ہیں، ان کے حل سامنے آتے ہیں، مذہبی لیول پر بھی مسائل پر سوالات اٹھانے ہوں تو رکاوٹیں ہیں۔

پڑھے لکھے اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے لیڈر نکلتے ہیں، ہمارے پاس ایسا کوئی آج تک لیڈر نہیں آیا جو مڈل کلاس سے ہو، ہماری آج تک کی تمام لیڈر شپ مڈل کلاس سے تعلق نہیں رکھتی، چھوٹے صوبے بنانے سے نوجوان مڈل کلاس لیڈرشپ سامنے آئے گی۔میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ہم نبی کریمؐ کی سیرت کا کتنا مطالعہ کرتے ہیں؟ نبی کریمؐ دنیا میں ایک بہترین معلم تھے ، نبی کریمؐ ایک حکمران بھی تھے ، نبی کریمؐ نے ہر 10 گھر اور پھر ہر 100 گھر پر ایک نمائندہ مقرر کر رکھا تھا۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا کہ نبی کریمؐ ان نمائندوں کے ساتھ رابطے میں رہتے تھے ، نبی کریمؐ کے اس نظام سے بہتر کوئی اور نظام نہیں ہوسکتا۔ ملک کے اصل مالک عوام ہوتے ہیں، 5 لاکھ شہریوں کے ووٹ سے ایک ایم این اے اسمبلی میں جاتا ہے ، یہ ایم این اے ایوان میں جا کر عوام کی آواز بنتا ہے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں بہتری کیلئے مزید اقدامات کریں گے ۔وزیرا طلاعات نے کہا کہ دنیا میں سلیبس بنتے ہیں تو یونیورس کے تحت بنتے ہیں ،ہم چاہتے ہیں ملک میں تعلیم کا نظام یکساں ہو، کورونا کے دوران ہماری معیشت کوبڑا جھٹکا لگا، آج کل کے دور میں ٹیکنالوجی کا اہم کردار ہے ، کوشش کی ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے ایسی ریفارمز لائی جائیں جہاں ہیومن اٹریکشن کم ہو۔ گورننس کی ریفارمز کی بات کرتے ہیں تو اس میں بھی ٹیکنالوجی کا بہت اہم رول ہے ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایسا شعبہ ہے جس کا کام ٹیکس کلیکشن ہے ۔اُن کا مزید کہنا تھا کہ لوکل گورنمنٹ کے 2سے 3سسٹم دیکھے اُن کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا، جب تک لوکل گورنمنٹ سسٹم مضبوط نہیں کریں گے ،گورننس میں تبدیلی لانا ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں