’’چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن 1ہفتے کے اندر ہوجائیگا‘‘

’’چیف آف ڈیفنس فورسز کا نوٹیفکیشن 1ہفتے کے اندر ہوجائیگا‘‘

آفس، سٹاف ،ٹی او آرز بنیں گے اس لئے تاخیر ہورہی، کوئی دراڑ نہیں، کامران شاہد میں متفق نہیں ، مصطفی نواز ،قانونی مسائل ہیں،فیصل چودھری ،آن دی فرنٹ میں گفتگو

لاہور(دنیا نیوز )دنیا نیوز کے پروگرام آن دی فرنٹ کے میزبان کامران شاہد نے کہا ہے نوازشریف، حکومت اور فوج میں کسی قسم کی دراڑ نہیں۔ نوٹیفکیشن اس لیےنہیں ہورہا کہ صرف ایک عہدے کا اضافہ نہیں ہورہا بلکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کے انڈر ایک آپریشنل ہیڈ کوارٹر قائم ہوگا، جہاں راکٹ فورس، فضائیہ، نیوی، سٹریٹجک کمانڈر اور آرمی چیف ایک جگہ ہوں گے اس کیلئے آفس، سٹاف اور ٹی او آرز بنیں گے ۔صرف ایک عہدے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کرنا اس لیے تاخیر ہورہی ہے اور ایک ہفتے کے اندر یہ کام بھی ہوجائے گا۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہا آپ نے چیف آٖف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے بارے میں ایکسکلوزیو خبردی ہے لیکن پچھلے چار پانچ دنوں سے ہم نے اتنی ایکسکلوزیو خبر یں سنی ہیں ہم کو پتا نہیں اب ہم کونسی خبر کومان لیں،چلو آپ کی خبر کو مان لیتے ہیں ممکن ہے مزید چارپانچ دن یا ہفتہ لگ سکتا ہے۔

عرض یہ ہے یہاں وفاقی آئینی عدالت بن گئی ہے حالانکہ اس کی کوئی عمارت موجود نہیں تھی،اس کیلئے جج صاحبان کو بنا بھی دیا گیا ہے ،ان کا حلف بھی ہوگیا ہے ،جو آپ نے وجوہات بتائی ہیں میں ان سے متفق نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہے جو بھی تاخیر کی وجوہات ہیں حکومت کو اس کے بارے میں کلیئر بتانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا اگرسیاسی تلخیوں کے دوران کے پی میں گورنر راج لگا دیا جاتا ہے تو یہ غلط اقدام ہو گا۔بانی پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چودھری نے کہا چیف آٖف ڈیفنس فورسز کے نوٹیفکیشن کے بارے میں آئینی،قانونی مسائل ہیں، جتنا بتایا جارہا ہے یہ معاملہ اس طرح نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکے پی میں گورنر راج لگا نے کاشوق پورا کرلیں ۔ تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ملاقات اس وجہ سے نہیں کرائی گئی کہ انہوں نے دھمکیاں دیں تھیں۔ انہوں نے کہا گورنر راج صرف انتباہ تھاکچھ بھی نہیں تھا،اس کے نتیجہ میں یہ ملاقات ہو گئی ہے ،گورنر راج جب لگانا ہوگا لگ جائے گا،کوئی مزاحمت بھی نہیں ہوگی، ابھی کوئی چانس نہیں ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں