پاکستان کرپٹو صارفین کا تیسرا بڑا ملک،بائننس کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط:2ارب ڈالر کے سرکاری اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے کا امکان

پاکستان کرپٹو صارفین کا تیسرا بڑا ملک،بائننس کیساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط:2ارب ڈالر کے سرکاری اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے کا امکان

سرکاری بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ریزروز ،فیڈرل اثاثوں کو عالمی سرمایہ کاروں تک پہنچانے کا جائزہ لیا جائیگا، بائننس اور ایچ ٹی ایکس ابتدائی مشاورتی سرگرمیاں شروع کر سکیں گی ینٹی منی لانڈرنگ ،ٹیرر فنانسنگ پر سختی سے عملدرآمد لازم،ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کیلئے نیادور :بلال بن ثاقب،وزیر خزانہ کے برطانوی وزیر سے مذاکرات، تعاون بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد(مدثرعلی رانا،اے پی پی )ورچوئل اثاثوں کیلئے حکومت کاتاریخی اقدام،بلاک چین میں تعاون کیلئے پاکستان اور بائننس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کردئیے گئے جس کے تحت 2ارب ڈالر کے سرکاری اثاثوں کو ڈیجیٹل شکل دینے کا امکان ہے ۔ 2 کمپنیوں کو این اوسی جاری کر دئیے گئے ، جس سے پاکستان میں کرپٹوکاروبار قانونی ہوگیا ۔چیئرمین پی وی آر اے بلال بن ثاقب نے کہا پاکستان کرپٹو صارفین کا دنیا میں تیسرا بڑا ملک ہے جہاں ڈیجیٹل ایسٹ صارفین کی تعداد 3 سے 4 کروڑ کے درمیان ہے ۔ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور بائننس کے درمیان 2 ارب ڈالر کے سرکاری اثاثوں کیلئے ٹوکنائز کا معاہدہ طے پایا ہے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی نے واضح کیا کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور اینٹی ٹیرر فنانسنگ اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا اور فیٹف شرائط پر کمپلائنس یقینی بنانا ہو گا، وزارت خزانہ اور بائننس انویسٹمنٹ کمپنی کے درمیان ایم او یو پر دستخط کئے گئے ایم او یو وزیر خزانہ اور بائننس کے سی ای او رچرڈ ٹینگ کے درمیان طے پایا، ایم او یو کا مقصد سرکاری اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لینا ہے جس میں حکومتی بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ریزروز اور دیگر وفاقی سطح کے اثاثے شامل ہیں اس اقدام میں 2 ارب امریکی ڈالر تک کے اثاثے شامل ہو سکتے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد پاکستان کے سرکاری اور حقیقی اثاثوں کی بلاک چین پر ٹوکنائزیشن اور جدید مالیاتی ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لینا ہے ،معاہدے کے تحت پاکستان کے سرکاری بانڈز، ٹریژری بلز، کموڈٹی ریزروز اور دیگر فیڈرل اثاثوں کو جدید بلاک چین پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں تک بہتر طریقے سے پہنچانے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا ،ابتدائی طور پر یہ منصوبہ 2 ارب ڈالر تک کے اثاثوں سے متعلق ہو سکتا ہے ، جو شفافیت، لیکویڈیٹی اور عالمی رسائی بڑھانے میں مدد دے گا یہ اقدام ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز کیلئے باقاعدہ ریگولیٹری فریم ورک کی تشکیل کا حصہ ہے ، کمپنیاں ایس ای سی پی کے ساتھ رابطے کے بعد مقامی ریگولیٹڈ سبسڈیری رجسٹرڈ کرا سکیں گی اور لائسنسنگ ریگولیشنز کے اجرا کے بعد مکمل ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز لائسنس کی درخواستیں جمع ہوں گی، وزیر خزانہ محمداورنگزیب نے تقریب کے دوران کہا کہ این او سی فریم ورک پاکستان کے مالی نظم اور ذمہ دارانہ انوویشن کے عزم کا ثبوت ہے ، پی وی آر اے دنیا کی پہلی اے آئی سے چلنے والی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی بن رہی ہے ، اتھارٹی نے اے آئی بیسڈ ایویلیوایشن سسٹم اور اے آئی ا سٹڈ ریگولیٹری ٹول متعارف کرا دیا ہے ، اے آئی ٹول سے نگرانی کی صلاحیت بہتر ہوئی اور فریم ورک عالمی معیار سے ہم آہنگ ہوا، پی وی آر اے ریگولیٹری فریم ورک کے اگلے مراحل کیلئے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت جاری رکھے گی، لائسنسنگ معیارات اور کمپلائنس تقاضوں سے متعلق اضافی رہنما اصول مناسب وقت پر جاری ہوں گے۔

چیئرمین پی وی آر اے بلال بن ثاقب نے کہا کہ پاکستان کے ڈیجیٹل ایسٹ ایکو سسٹم کیلئے نئے دور کا آغاز ہے ، این او سی کا اجرا ریگولیٹڈ اور مکمل لائسنس یافتہ ماحول کی طرف پہلا قدم ہے ، این او سی سے صارف تحفظ، مالی شفافیت اور ذمہ دارانہ جدت کو بنیاد بنایا جائے گا، پاکستان صرف بہتر گورننس اور مکمل کمپلا ئنس رکھنے والے عالمی پلیٹ فارمز کو آگے بڑھائے گا، فریم ورک پاکستان کی فیٹف معیار سے ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتا ہے ، ڈیجیٹل مارکیٹ میں داخل ہونے والی کمپنیوں کیلئے سخت گورننس اور رسک مینجمنٹ تقاضے لازم ہوں گے ، پاکستان کرپٹو اپنائے جانے میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے ، ملک میں ڈیجیٹل ایسٹ صارفین کی تعداد 3 سے 4 کروڑ کے درمیان ہے ، پاکستان سے منسلک سالانہ ڈیجیٹل ایسٹ ٹریڈنگ کا حجم 300 ارب ڈالر سے زائد ہے ، منظم ریگولیشن کا مقصد مارکیٹ سرگرمی کو شفاف اور عالمی اصولوں کے مطابق بنانا ہے ، پی وی آر اے کی پیش رفت واضح اور فیصلہ کن ریگولیٹری عزم کی عکاس ہے ، پاکستان عالمی مارکیٹس کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ مضبوط نگرانی کے تحت ذمہ دارانہ جدت کیلئے تیار ہے ، وزارت خزانہ اعلامیہ کے مطابق این او سی متعلقہ سرکاری اداروں سے مشاورت اور باضابطہ جائزے کے بعد جاری کیا گیا۔

جائزے میں گورننس، کمپلائنس، رسک مینجمنٹ اور ریگولیٹری ہم آہنگی کا جائزہ شامل تھا، این او سی کے بعد بائننس اور ایچ ٹی ایکس پاکستان میں ابتدائی مشاورتی سرگرمیاں شروع کر سکیں گے ، ریگولیٹری فریم ورک کی کوششوں کا حصہ ہے این او سی کا اجرا متعلقہ سرکاری اداروں کیساتھ مشاورت اور باضابطہ جائزہ کارروائی کے بعد کیا گیا این او سی بائننس اور ایچ ٹی ایکس کو پاکستان میں ابتدائی تیاری اور مشاورتی سرگرمیاں کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔دریں اثنا پاکستان اور برطانیہ کے درمیان آٹھ سال بعد ترقیاتی مذاکرات کا نیا دور اسلام آباد میں شروع ہوگیا جس میں دونوں ممالک نے تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیات اور سماجی شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور برطانوی وزیر برائے ترقیاتی امور بیرونیس چیپ مین کے درمیان تفصیلی ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے ایس آئی ایف سی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا اس فورم کے ذریعے پاکستان اور برطانیہ کے درمیان معاشی تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں 200 سے زائد برطانوی کمپنیاں کام کر رہی ہیں جس سے دو طرفہ تجارت کا حجم 5 اعشاریہ 5 بلین پاؤنڈ سے تجاوز کر چکا ہے ۔ انہوں نے کہا سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا ثبوت ہے ۔بیرونیس چیپ مین اور وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے پاک-یو کے ایجوکیشن گیٹ وے کے اگلے مرحلے کا افتتاح بھی کیا ۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کلی معیشت کے استحکام کو برقرار رکھنا اور اسے سرمایہ کاری و برآمدات پرمبنی نمو میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے ۔انہوں نے یہ بات جمعہ کو سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک پاکستان کے بورڈ کے وفد سے ملاقات میں کہی۔ وفد کی قیادت بورڈ کے چیئرمین اورسینئرایگزیکٹو آفیسر کرسٹوفر پارسنز کر رہے تھے ۔وزیر خزانہ نے کہا بینک کے تعاون نے مارکیٹ کے اعتماد کو مضبوط کرنے اور بیرونی مالی معاونت میں مدد دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ انہوں نے وفد کو حکومت کی اصلاحاتی ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔ ملاقات میں فریقین نے پاکستان کے اصلاحاتی تسلسل کو برقرار رکھنے ، سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرنے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے قریبی رابطہ جاری رکھنے پراتفاق کیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں