2025میں 699 دہشت گرد حملے، 1034 افراد جاں بحق

 2025میں 699 دہشت گرد حملے، 1034 افراد جاں بحق

جھڑپوں میں ریکارڈ 1313 عسکریت پسند ہلاک ،437سکیورٹی اہلکارشہیدہوئے اسلام آباد میں جوڈیشل کمپلیکس کے باہر خودکش دھماکے میں 12 افراد چل بسے پختونخوا میں413 ،بلوچستان 254،پنجاب میں7دہشتگردحملے ہوئے :رپورٹ

اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر)عسکریت پسندوں کی ریکارڈ ہلاکتوں کے باوجودپاکستان میں 2025 کے دوران عسکری تشدد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جہاں دہشت گرد حملوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا ،جبکہ دہشت گردی سے متعلق ہلاکتیں سال بہ سال بنیاد پر 21 فیصد بڑھ گئیں،سال کے دوران ملک بھر میں مجموعی طور پر 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے ، اس تشدد کے نتیجے میں کم از کم 1034 افراد جاں بحق اور 1366 زخمی ہوئے ، جو 2021 میں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد سے جاری عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے ،اسی سال فوجی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ریکارڈ 1313 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ،یہ نتائج اسلام آباد میں قائم پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (PIPS) کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2025 میں سامنے آئے ،اعداد و شمار کے مطابق اس تشدد کا سب سے زیادہ بوجھ ریاست کے محافظوں پر پڑا، کیونکہ سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار دہشت گردی سے متعلق مجموعی ہلاکتوں کے 42 فیصد سے زائد کا شکار ہوئے ، جن میں 437 جانیں ضائع ہوئیں،پیپس کی رپورٹ کے پی مطابق 95 فیصد سے زائد حملے خیبر پختونخوا (کے پی) اور بلوچستان میں ہوئے ، خیبر پختونخوا میں413 حملے ریکارڈ کیے گئے ،جن میں مجموعی طور پر 581 افراد جاں بحق اور 698 زخمی ہوئے ۔

رپورٹ کے مطابق یومِ آزادی کے موقع پر 11 اضلاع میں مربوط حملوں کی ایک لہر شامل تھی، جو ریاستی عملداری (state writ)کے لیے علامتی چیلنج تھی۔بلوچستان میں 2025 کے دوران 254 عسکریت پسند حملے ہوئے ، جن کے نتیجے میں 419 افراد جاں بحق اور 607 زخمی ہوئے ،سندھ میں 21 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے ، جن میں کراچی میں 16، شکارپور میں دو، جبکہ حیدرآباد، جیکب آباد اور جامشورو میں ایک ایک حملہ شامل تھا، ان واقعات کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوئے ۔پنجاب میں 2025 کے دوران سات دہشت گرد حملے ہوئے ، جو گزشتہ سال کے 11 واقعات کے مقابلے میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان حملوں میں چار عسکریت پسندوں اور ایک پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوئے ، جبکہ دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔اسلام آباد میں ڈسٹرکٹ اور سیشن کورٹس پر مشتمل جوڈیشل کمپلیکس کے باہر ایک خودکش دھماکے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے ۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے ایک دھڑے ، جماعت الاحرار، نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سکیورٹی بحران کا براہِ راست تعلق پیچیدہ خارجہ تعلقات، بالخصوص افغانستان کے ساتھ تعلقات سے ہے ،سرحد پار عسکریت پسندی بنیادی تنازع ہے ، جہاں پاکستان افغان طالبان پر ٹی ٹی پی کو پناہ اور معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے ، اکتوبر 2025 میں یہ کشیدگی سرحد کے ساتھ براہِ راست فوجی جھڑپوں میں تبدیل ہو گئی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں