شک کا فائدہ رعایت نہیں ملزم کا قانونی حق:سپریم کورٹ
ایک معقول شک ملزم کو فائدہ دینے کیلئے کافی ہوتا،قتل کا ملزم بری کرنیکاحکم عدالت نے شہزاد لیاقت کی سزاعمر قید سے تبدیل کرکے 20سال قیدِ بامشقت کر دیا
اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے )سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کا سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے قتل کیس میں ملزم صدیق کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے 6 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا،عدالت نے ٹرائل اور ہائی کورٹ کے کے فیصلوں کو شواہد کے غلط جائزے پر مبنی قرار دیتے ہوئے محمد صدیق کی فوری رہائی حکم دیا،عدالت نے سزا بڑھانے کے لیے دائر درخواست کوغیر مؤثر قرار دے کر خارج کرتے ہوئے کہا استغاثہ کا مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرا ہوا ہے ،مبینہ عینی شاہدین کی موجودگی موقع پر مشکوک ہے ، محض ایک معقول شک ملزم کو فائدہ دینے کے لیے کافی ہوتا ہے ،شک کا فائدہ دینا رعایت نہیں بلکہ ملزم کا قانونی حق ہے ۔
ٹرائل کورٹ نے محمد صدیق کو دفعہ 302(b) کے تحت سزائے موت اور پانچ لاکھ روپے ہرجانہ کی سزا سنائی تھی،لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے شہزاد لیاقت کی سزا کو عمر قید سے تبدیل کرکے بیس سال قیدِ بامشقت کر دیا۔ عدالت نے شہزاد لیاقت کو دفعہ 302(b) کے بجائے دفعہ 302(c) کے تحت مجرم قرار دیتے ہوئے ہائیکورٹ کی جانب سے مقرر کردہ جرمانہ اور دیت برقرار رکھی اور شہزاد لیاقت کو دفعہ 382-B کے تحت سزا میں رعایت دینے کا حکم دیا،لاہور ہائی کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا تھا۔