معاشی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہائی پاور کمیٹی بنانیکی تجویز

معاشی ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کی تیاری، اسحاق ڈار کی سربراہی میں ہائی پاور کمیٹی بنانیکی تجویز

وزیراعظم کیساتھ مشاورت ، تجارتی خسارہ ، برآمدات اضافہ، ریونیو شارٹ فال جیسے مسائل کیلئے اختیارات سونپے جائینگے معاشی ٹیم کے تمام وزرا کو کمیٹی ممبربنانے کی تجویز، کابینہ میں ردوبدل ،ناقص کارکردگی والے وزرا فارغ کرنے پرغور:ذرائع

اسلام آباد(مدثرعلی رانا)باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ حکومت مضبوط اور مستحکم معیشت کے فروغ کیلئے معاشی ٹیم کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف کیساتھ یہ تجویز ڈسکس کی گئی ہے کہ میکرواکنامک اشاریوں میں بہتری، تجارتی خسارہ کنٹرول، برآمدات میں اضافہ، ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے ، ریونیو شارٹ فال جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کیلئے ہائی پاور  کمیٹی بنائی جائے اور معاشی فیصلوں کیلئے ہائی پاور کمیٹی کو اختیارات سونپے جائیں، ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کمیٹی کی صدارت کریں گے جبکہ اکنامک ٹیم کے تمام وزراء کو کمیٹی ممبران بنانے کی تجویز بھی ہے ، وزیراعظم کمیٹی بنانے کا حتمی فیصلہ کریں گے ، ہائی پاور کمیٹی اہم معاشی فیصلے کرے گی.

ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ کے اختیارات محدود ہو سکتے ہیں۔ ہائی پاور کمیٹی وزیرخزانہ کے فیصلوں کی توثیق اور انہیں تعاون بھی فراہم کرے گی، یہ تجویز حکومتی سطح کے ٹاپ لیول پر ڈسکس کی گئی ہے اور حکومت معاشی میدان میں کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اس اقدام کی طرف بڑھ رہی ہے، ذرائع کے مطابق وزیراعظم اب معاشی میدان میں پہلے سے زیادہ متحرک ہیں ۔معاشی میدان میں کامیابی کیلئے اہم ٹاسک ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کو سونپا جائے گا، حکومت کی جانب سے ہائی پاور کمیٹی تشکیل د ئیے جانے سے وزیرخزانہ محمداورنگزیب کے اختیارات محدود ہو سکتے ہیں اور اہم فیصلوں کا اختیار ہائی پاور کمیٹی کو سونپا جا سکتا ہے اس تجویز پر حتمی فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کریں گے ، ہائی پاور کمیٹی بنانے کا فیصلہ معاشی میدان میں اہم معاشی اعشاریوں میں کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے ناقص کارکردگی کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔

وزیراعظم اور قریبی وزرا میں حالیہ تجارتی خسارہ، برآمدات میں اضافہ، ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے ، ریونیو شارٹ فال جیسے اہم اشاریوں میں ناقص کارکردگی کی بنا پر ہائی پاور کمیٹی کو اختیارات منتقل کئے جائیں گے ، یہ تجویز بھی زیرغور ہے کہ کابینہ میں ردوبدل کیا جائے اور جن وزرا کی کارکردگی قابل تحسین نہیں ان کو تبدیل کیا جائے گا ،کابینہ کا سائز بھی کم ہو سکتا ہے ، وزیرخزانہ محمداورنگزیب کو ہٹانے کی چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں لیکن تاحال متبادل نام فائنل نہیں ، جولائی سے دسمبر تجارتی خسارہ 19 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا، ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برآمدات میں رواں مالی سال کے چھ ماہ میں 8.7 فیصد کی کمی اور درآمدات میں 11.28 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

پہلی ششماہی میں 15 ارب 18 کروڑ ڈالر، درآمدات 34 ارب 38 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی ریکارڈ کی گئیں، گزشتہ مالی سال مالی عرصے میں ساڑھے 16 ارب ڈالر کی برآمدات تھیں اور اسی عرصے میں 30 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی درآمدات تھیں، گزشتہ سال دسمبر کی نسبت رواں مالی سال دسمبر میں برآمدات میں 20 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ۔ گزشتہ سال دسمبر کی نسبت رواں سال مالی دسمبر میں درآمدات میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا ۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی نسبت تجارتی خسارہ میں 34 فیصد زائد اضافہ ریکارڈ ہوا اسی طرح باوثوق ذرائع نے بتایا کہ دسمبر کے دوران ایف بی آر کا ٹارگٹ انتہائی مشکل طریقے سے پورا کیا گیا ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں