سوشل میڈیا پر لکھنے سے نہیں، تبدیلی کیلئے نوجوانوں کو میدان میں آنا ہوگا : حافظ نعیم
حکمران طبقہ جنریشن زی سے خوف زدہ ، ہم حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ،حق دلوائیں گے اورہنر سکھائیں گے کراچی میں میرا برانڈ پاکستان نمائش کا افتتاح، دیگرشہروں میں بھی تیاریاں ، اسے عالم اسلام کا برانڈ بنانے کیلئے کوشاں:گفتگو
کراچی (سٹاف رپورٹر، دنیا نیوز) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے سوشل میڈیا پر لکھنے سے نہیں، نوجوانوں کو تبدیلی کیلئے میدان میں آنا پڑے گا۔ ہفتہ کو ایکسپو سینٹر کراچی میں پاکستان انٹرنیشنل بزنس فورم کراچی چیپٹر کے تحت دو روزہ چوتھی میرا برانڈ پاکستان نمائش کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی سیکٹر پاکستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ، ہم نوجوانوں کوہنرسکھائیں گے ، ملک میں اس وقت ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے ، وفاقی وزیراحسن اقبال خود بتاتے ہیں بچے اسکولوں سے باہر اور ان کو شرم نہیں آتی۔ مسلم لیگ ن سے سوال ہے پنجاب میں ایک کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہرکیوں ہیں؟ دونوں حکومتی بڑی پارٹیاں جرائم میں ایک دوسرے کی ساتھی ہیں، یہ مل کر صدرمملکت کواستثنیٰ دیتی ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا جنریشن زی کو سپورٹ فراہم کرنے کو کوئی تیار نہیں، جدید دور میں اب امریکا بھی عالمی سپر پاور نہیں رہا، طوفان الاقصیٰ کو سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کی مدد سے کامیابی ملی۔ان کا کہنا تھا ملک میں وڈیروں،جاگیرداروں،بیوروکریسی کی اجارہ داری ہے ، آج بھی انگریزدورکا سسٹم چل رہا ہے ، جب تک یہ نظام نہیں بدلے گا تب تک تبدیلی نہیں آسکتی۔انہوں نے کہا آئی پی پیزکے زیادہ تر جھوٹے معاہدے کیے گئے ، ہماری جماعت کے علاوہ کبھی کسی نے آئی پی پیز کے خلاف احتجاج نہیں کیا، نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر لکھنے سے نہیں میدان میں آنا پڑے گا، ہم صرف تنقید نہیں عملی جدوجہد کرتے ہیں۔ حکمران لیپ ٹاپ دے کرسمجھتے ہیں مسائل حل ہوگئے ، ہم نوجوانوں کو ہنرسکھائیں گے ، شہرمیں کھیل کے میدان بھی نہیں بچے ، حکمران نئی نسل کو کھیلنے اور بولنے بھی نہیں دیتے ،ہم نوجوانوں کوان کا حق دلوائیں گے ۔
حافظ نعیم نے کہا میرا برانڈ پاکستان کا سفر بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ، گزشتہ سال لاہور میں بھی میرا برانڈ پاکستان نمائش ہوئی، جماعت اسلامی کے اجتماع عام جو پاکستان میں کسی بھی سیاسی جماعت کا سب سے بڑا اجتماع تھامیں بھی میرابرانڈ پاکستان کا ایک بازار سجایا گیا تھا،حکمران طبقہ جنریشن زی سے خوفزدہ ہیں،جنریشن زی کو ہم حالات کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے ، جماعت اسلامی کے علاوہ جنریشن زی کو کوئی نہیں سنبھال سکتا، اس وقت پاکستان میں جنریشن زی کا سب سے کامیاب اور بڑا پروگرام الخدمت فری آئی ٹی کورسز کاپروجیکٹ ’’بنو قابل‘‘ہے۔
جس کے تحت اب تک 12لاکھ سے زائد طلبا و طالبات رجسٹر ہوچکے ہیں، جو کراچی سے شروع ہوکرپورے پاکستان میں پھیل چکاہے ،280کمپنیز اور 700برانڈزکی شاندارنمائش کے انعقاد پر میں بزنس فورم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں،اسرائیل کی جارحیت ودہشت گردی کی وجہ سے دنیا بھر میں صیہونی مصنوعات کے خلاف بائیکاٹ مہم چلنا شروع ہوئی،اس بائیکاٹ مہم کے ساتھ ہمیں اپنی مصنوعات کو متبادل کے طور پرفروغ دینا چاہیے، اس سے ہمارے ملک کی صنعتوں کو بھی فائدہ ہوگا، پاکستان کے صنعتکاروں کو چاہیے اپنی مصنوعات کی کوالٹی بہتر اور قیمتیں کم سے کم کریں، میرا برانڈ پاکستان سے جتنی بھی آمدنی ہوگی وہ سب فلسطین کی امداد کے لیے استعمال ہوگی، اب تک جماعت اسلامی اور الخدمت اربوں روپے مالیت کی 40امدادی کھیپ غزہ روانہ کرچکی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا حکمرانوں کے خوف کا یہ عالم ہے کہ اخبار میں ایک کالم چھپا تو پریشان ہوگئے ، کالم کا جواب کالم سے ہونا چاہیے ، جبر کا نظام ختم کرنا ہوگا، لوگوں کو بولنے دیا جائے ، اس قوم کو آگے بڑھنے دیا جائے ، جمہوری قوتوں کا راستہ روکنا اور عوامی رائے کو کچلنابندکیا جائے ، آج بھی انگیزوں کا سسٹم چل رہا، حالات بگڑ گئے تو ایسا نہ ہو بہت سے لوگوں کو حسینہ واجد کی طرح ایئر لفٹ بھی نہ ملے ، ملک میں چہرے نہیں ظالمانہ نظام بدلنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کراچی اور لاہور کے بعد اپریل میں اسلام آباد میں بھی میرا برانڈ پاکستان کی نمائش ہونے جارہی ہے ،جبکہ پشاور،فیصل آباد،گوجرانوالہ میں بھی تیاریاں جاری ہیں، ہم اسے پورے عالم اسلام کا برانڈ بنانے کی کوششیں کررہے ہیں، جس میں مختلف اسلامی ممالک اپنے اپنے برانڈز لیکر آئیں گے ، ترکی،ڈھاکہ ودیگر مسلم ممالک میں اس کے پروگرام کیے جائیں گے ، یہ پروگرام ہمارے فلسطینی بھائیوں کی قربانیوں کے نتیجے میں شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر سہیل عزیز،ثاقب فیاض مگوں،جاوید بلوانی،صدرآرٹس کونسل احمد شاہ ودیگر نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان، توفیق الدین صدیقی ودیگر بھی موجود تھے ۔