یمن صورتحال پر پاکستان متحرک، ڈار کے سعودی، امارتی، ترک وزرائے خارجہ سے مسلسل رابطے
نائب وزیراعظم کا 24 گھنٹے میں دوبار سعودی ہم منصب سے رابطہ ، معاملات خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کوششوں کو سراہا یمن مذاکرات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں ،فریقین بات چیت کے ذریعے سیاسی حل کی جانب پیش قدمی کریں :دفتر خارجہ
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی) یمن میں جنگی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کا موقف جہاں بڑا واضح رہا وہی پر پاکستان نے نہ صرف بات چیت اور سفارت کاری پر زور دیا بلکہ اس میں مثبت کردار بھی ادا کیا ۔ اسحاق ڈار کا 24 گھنٹے سے کم وقت میں تین وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا ، جس میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان، متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان اور ترک وزیر خارجہ حکام فدان شامل ہیں ۔ یمن میں موجود صورتحال کے پیش نظر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک ہفتے کے دوران 3 مرتبہ سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا جبکہ اس دوران تبوک کے گورنر سے بھی رابطہ کیا، اسحاق ڈار اس وقت دور ہ چین پر ہیں تاہم موجودہ صورتحال کے باعث چین پہنچتے ہی اسحاق ڈار نے بیجنگ سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک را بطہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ان رابطوں میں خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کیلئے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کو بیجنگ سے ٹیلی فون کیا اور یمن سے متعلق سعودی وزارت خارجہ کے بیان کا خیرمقدم کیا ۔اسحاق ڈار نے امارات کے ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید النہیان سے بھی رابطہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے خطے کی صورتحال کے متعلق مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ ترکیہ کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک گفتگو میں اسحاق ڈار نے مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں کی تعریف کی۔
ترجمان دفتر خارجہ نے یمن مذاکرات کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی وحدت اور اس کی علاقائی سالمیت کیلئے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں ، فریقین پر زور دیتے ہیں مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی جانب پیش قدمی کریں ، قبل ازیں اسحاق ڈار چین کے وزیر خارجہ کی دعوت پر بیجنگ پہنچ گئے ، جہاں وہ 7ویں پاک چین وزرائے خارجہ سٹرٹیجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کریں گے ،اس موقع پر وہ پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75ویں سال کے آغاز کی تقریبات میں بھی شرکت کرینگے ، جس کے تحت 2026 کے دوران مختلف یادگاری سرگرمیوں اور اقدامات کا انعقاد کیا جائے گا۔دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم 2026 میں چین کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی رہنما ہیں ،سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے دوران دوطرفہ تعاون کے مکمل دائرہ کار کا جائزہ ،نئے شعبوں میں شراکت داری کی نشاندہی اور پاک چین ہمہ موسمی سٹرٹیجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔