پی ٹی آئی اپنی احتجاجی اور مزاحمتی قوت کی بحالی کیلئے سرگرم
لاہور کے بعد وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دورہ کراچی کیسا رہے گا
(تجزیہ:سلمان غنی)
سیاسی محاذ پر وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کے دوسرے صوبوں کے دوروں کے عمل پر غورو خوض جاری ہے کہ اس کے اصل مقاصد کیا ہیں اور اگر مقصد سٹریٹ پاور کو متحرک بنانا ہے تو کیا پختونخوا کے وزیراعلیٰ دوسرے صوبوں میں جا کراپنی پارٹی کے کارکنوں ،تنظیمی عہدیداروں اور اراکین اسمبلی کو متحرک اور فعال بنا پائیں گے ، اور کیا یہ عمل آئینی ہے ، اس کے وفاق پاکستان پر کیا اثرات ہوں گے ، خصوصاً پنجاب اور لاہور کے دورے کے بعد کراچی جانے کا اعلان کیا ظاہرکر رہا ہے ، کیا سندھ حکومت کا طرز عمل بھی پنجاب جیسا ہوگا یا سندھ حکومت پختونخوا کے وزیراعلیٰ کو کراچی میں سازگار ماحول فراہم کر پائے گی؟۔
جہاں تک سہیل آفریدی کے دوروں کے مقاصد کا تعلق ہے تو پی ٹی آئی اپنی احتجاجی اور مزاحمتی قوت کی واپسی یقینی بناتے ہوئے کسی ہنگامی صورتحال کا پتہ دیتی ہے کیونکہ حکومت سے نکلنے کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاجی اور مزاحمتی طاقت کے استعمال کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا اور اسلام آباد میں وہی صورتحال طاری کرنے کی کوشش کی جو ماضی میں حکومت میں آنے سے قبل وہ اختیار کرتی تھی، لیکن 9 مئی کے واقعات کے بعد اس کی مزاحمتی اور احتجاجی طاقت میں بڑا شگاف پڑا اور ملوث افراد کے خلاف مقدمات اورسزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے ، اس لئے کہ ریاست فیصلہ کرچکی کہ کسی شخص کو احتجاج کے نام پر ایسی صورتحال طاری نہیں کرنے دی جائے گی جس سے پاکستان کی تصویر دنیا کے سامنے مسخ ہو ۔
لہٰذا اس حوالہ سے پی ٹی آئی کا زیادہ انحصار اپنے صوبہ پختونخوا تک رہا اور یہاں احتجاج بھی ہوا لیکن پنجاب اور سندھ میں پی ٹی آئی کا کردار سکڑتا نظر آیا اور خصوصاً پنجاب میں پیدا شدہ حالات میں بوجوہ پی ٹی آئی کا سیاسی کردار نظر آ رہا نہ ہی اسے کوئی سیاسی راستہ مل رہا ، لہٰذا پی ٹی آئی نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو میدان میں اتارا ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے سٹریٹ پاور کو متحرک بنانے کیلئے پہلے لاہور کا رخ کیا، بلاشبہ ان کے آنے سے سیاسی محاذ پر ہلچل ہوئی لیکن سٹریٹ پاور کو متحرک بنانے کا پلان کامیاب نہیں ہوا۔
جہاں تک دورہ کراچی کا سوال ہے تو سندھ حکومت ان کے اس دورہ سے زیادہ پریشان نہیں ،ان کے دورہ کراچی کو فرینڈلی قرار دیا جاسکتا ہے ۔ لاہور کے محاذ پر بدمزگی کی بڑی وجہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن میں پیدا تناؤ ہے جو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا ، لاہور اور خصوصاً پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی مضبوط انتظامی گرپ میں بھی پی ٹی آئی کے پنپنے کے امکانات کم تھے اور کم ہیں ،البتہ سندھ حکومت کراچی میں ایسی صورتحال طاری نہیں ہونے دے گی جس سے وہاں ہنگامی صورتحال پیداہو ، لیکن اگر وزرائے اعلیٰ اپنی سرکاری حیثیت کے تحت دوسرے صوبوں کو سیاسی مقاصد کی تکمیل کا ہدف بنائیں گے تو خود وفاق کیلئے اچھا نہیں ہوگا اور ایسی روایت مستقبل میں حکومتوں کیلئے پریشان کن ہوگی۔
ویسے بھی ریاست ، پنجاب اور سندھ کی حکومتیں الرٹ ہیں اور وہ کسی قیمت پر ایسی صورتحال طاری نہیں ہونے دیں گے جس سے سیاسی محاذ گرم اور احتجاجی فضا طاری ہو، ابھی تک اس حوالہ سے پنجاب اور سندھ حکومت کامیاب نظر آ رہی ہیں، لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ پی ٹی آئی کی سٹریٹ پاور کو متحرک بنانے کا وزیراعلیٰ پختونخوا کا مشن کارگر ہوگا تو فی الحال اس کا امکان نہیں ، خصوصاً 8 فروری کو پی ٹی آئی اور اپوزیشن نے جو احتجاج اور پہیہ جام کی کال دے رکھی ہے اس حوالہ سے جواباً حکومت اپنی حکمت عملی تیارکر چکی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کو سٹریٹ پاور کی تیاری کے دئیے جانیوالے بانی پی ٹی آئی کے ہدف کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔