بنگلہ دیش سے دو طرفہ تعلقات مستحکم کرینگے : شہبازشریف
وزیر اعظم بنگلہ دیشی ہائی کمیشن گئے ، ناظم الامور سے خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت ایس ایم ایز کو آسان قرضے دینے کیلئے اقدامات تیز کرنیکی ہدایت،سپیکر کی ملاقات
اسلام آباد(نامہ نگار، نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے بنگلہ دیش کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو تمام شعبوں میں مستحکم کریں گے۔ بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر سے میری ہمیشہ انتہائی خوشگوار ملاقاتیں رہی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی روابط کا فروغ ناگزیر ہے ۔وزیراعظم سے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے ملاقات کی اور اپنے حالیہ دورہ بنگلہ دیش پر تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں پارلیمانی امور، پی ٹی آئی سے مذاکرات اور اپوزیشن لیڈر کی تقرری سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ سپیکر ایاز صادق نے وزیراعظم کو بتایا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے خود میری نشست پر آ کر ملاقات کی اور اپنا تعارف بھارتی وزیر خارجہ کے طور پر کرایا۔
اس موقع پر میں نے بھی ان سے احوال دریافت کیا۔جے شنکر کی جانب سے نشست پر آ کر مصافحہ کرنا میرے لئے حیران کن رہا۔ وہ پوری تیاری اور منصوبہ بندی سے مجھ سے ملاقات کے لئے آئے تھے ۔ وزیراعظم نے ایاز صادق کو بنگلہ دیش کا مثبت دورہ کرنے پر مبارکباد پیش کی ۔دریں اثنائوزیر اعظم شہباز شریف پیر کوبنگلہ دیش کے ہائی کمیشن گئے جہاں انہوں نے ناظم الامور سے خالدہ ضیا کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی ۔ وزیر اعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنا تعزیتی بیان تحریر کیا جس میں انہوں نے بیگم خالدہ ضیا کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں صاحب بصیرت رہنما اور نامور سیاسی شخصیت قرار دیا جنہوں نے اپنی زندگی عوامی خدمت کے لیے وقف کر دی۔
بیگم خالدہ ضیا کو پاکستان اور اس کے عوام کی مخلص دوست و خیر خواہ کے طور پر یاد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا انہوں نے لازوال اور متاثر کن میراث چھوڑی ہے ۔وزیر اطلاعات عطا اﷲتارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے ۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار(ایس ایم ایز)ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ سمیڈا کے بزنس پلان کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ اجلاس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے آئندہ تین سال کا روڈ میپ پیش کیا گیا۔وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو بینکوں اور دیگر مالی اداروں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو آسان شرائط پر قرضے فراہم کرنے کیلئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت کی ۔