2026 کیلئے بجلی کے اوسط نرخ 33.38 روپے یونٹ مقرر
62 پیسے یونٹ کمی کی گئی ،پہلی مرتبہ بجلی قیمتوں کا تعین کیلنڈر ایئر کے مطابق کیا گیا 3379ارب تخمینہ ، 2923ارب کی خریداری ، 456 ارب اخراجات
اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاور سیکٹر میں پہلی بار مرتبہ بجلی کی نرخوں کا تعین کیلنڈر سال کے آغاز میں کیا گیا اس سے پہلے بجلی کی نرخوں کا تعین نیپرا مالی سال کے آغاز میں اور اس حساب سے کرتی تھی۔ مالی سال 2025-26 کے آغاز میں بھی بجلی کی قیمتوں کا تعین کیا گیا تھا تاہم اب نیپرا نے کیلنڈر ایئر کے آغاز میں دوبارہ تعین کرکے بجلی کے بنیادی نرخوں میں 62 پیسے فی یونٹ کمی کی ہے ۔ سال 2026 کے لیے قومی اوسط نرخِ بجلی 33 روپے 38پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے ۔ ان قیمتوں کا اطلاق جنوری تا دسمبر 2026 ہوگا۔ مالی سال 26-2025 کے لیے پہلے سے مقررہ 34 روپے فی یونٹ تھی جس کے مقابلے میں62 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی ہے ۔ نیپرا کے مطابق سال 2026 کے لیے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی مجموعی مالی ضرورت کا تخمینہ 3379 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں 2923 ارب روپے بجلی کی خریداری کی قیمت ہے جبکہ 456 ارب 15 کروڑ روپے تقسیم کار کمپنیوں کے اخراجات، منافع اور گزشتہ سال کی مالی ایڈجسٹمنٹ کے لیے شامل ہیں۔ نیپرا کے مطابق 2026 میں 101 ارب 23 کروڑ سے زائد بجلی کے یونٹس فروخت ہونے کا تخمینہ ہے ۔ نیپرا کے مطابق اتھارٹی ہر تقسیم کار کمپنی کے لیے علیحدہ علیحدہ بجلی کا نرخ مقرر کرتی ہے ۔ یہ نرخ ہر کمپنی کی انفرادی مالی ضروریات اور ترسیل و تقسیم کے دوران بجلی کے ضیاع کی اجازت شدہ حد کو مدِنظر رکھتے ہوئے طے کیے جاتے ہیں تاہم ملک میں یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت تمام صارفین کو ایک جیسے نرخوں کے بنیاد پر بلنگ کی جاتی ہے ۔ وزارتِ توانائی کی جانب سے جاری کردہ پالیسی ہدایات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد صارفین کے نرخوں کی سالانہ نظرِ ثانی یکم جنوری سے مؤثر ہونی ہے ۔