دنیا بھر میں فوجی کارروائی میں صرف میری اخلاقیات رکاوٹ:مجھے کسی عالمی قانون کی ضرورت نہیں:ٹرمپ

دنیا بھر میں فوجی کارروائی میں صرف میری اخلاقیات رکاوٹ:مجھے کسی عالمی قانون کی ضرورت نہیں:ٹرمپ

چین میرے دورِ صدارت میں تائیوان پر حملہ نہیں کرے گا ، امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں :امریکی صدر امریکی پالیسیاں تباہی، دنیا کو لٹیرے سے بچانا ہوگا:جرمنی ، حملہ ہواتو گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے :ڈنمارک

واشنگٹن (اے ایف پی ،مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو قوانین سے ماورا قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ مجھے کسی عالمی قانون کی ضرورت نہیں،میں عالمی قوانین کا پابند نہیں ،مجھے دنیا بھر پرحملے کا اختیارہے ،اگرمجھے کوئی روک سکتاہے تو وہ میں خودہوں،میرے دورصدارت میں چین تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کر یگا ۔جرمن صدر فرینک والٹر نے ردعمل میں کہاہے کہ امریکی پالیسیاں عالمی نظام کو تباہ کر رہی ہیں،انہوں نے ٹرمپ کو لٹیرا قراردیتے ہوئے کہاکہ دنیا کو اس سے بچانا ہے ۔ڈنمارک کے وزیر دفاع ٹرولس لیونڈ پولسن نے خبردار کیا کہ گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں گولی پہلے ماریں گے سوال بعد میں پوچھیں گے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں کہاکہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی حملے کا حکم دینے کا اختیار رکھتا ہوں، بحیثیت کمانڈر اِنچیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے اورمیں لوگوں کو تکلیف نہیں دیناچاہتا۔انہوں نے کہاکہ اگرچہ تائیوان کے مسئلے پر چین کے اپنے خیالات ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کے خیال میں تائیوان چین کا حصہ ہے تاہم وہ نہیں سمجھتے کہ شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی کریں گے ۔

چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے ، ہم تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے ، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہئے ۔واضح رہے کہ امریکا اور روس کے درمیان نیو سٹارٹ معاہدہ 5 فروری کو ختم ہو رہا ہے ۔ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔ جرمنی کے صدر فرینک والٹر سٹین مائر نے کہاامریکا عالمی نظام تباہ کررہا ہے ، امریکی خارجہ پالیسی تباہ کن ہے ، پہلے یوکرین پر روسی حملے نے نظام متاثر کیا، اب امریکا نے اقدار خطرے میں ڈال دیں،ہمیں مل کر دنیا کو لٹیروں کے ٹھکانے میں بدلنے سے بچانا ہوگا۔ برلن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہو ں نے خبردار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی قوانین اور اتحاد کو نظرانداز کیا تو دنیا ایک ایسی جگہ بن جائے گی جہاں طاقتور ممالک کمزور ریاستوں کو اپنی مرضی کے تابع کرلیں گے ۔ یورپ میں نیٹو کی افواج کے سربراہ امریکی جنرل الیکسس گرینکیوچ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ کو امریکی کنٹرول میں لانے کی دھمکیوں کے بعد بھی میں ابھی بحران کو بہت دور دیکھ رہا ہوں۔ گرینکیوچ نے فن لینڈ کے دورے پرمیڈیا سے گفتگو میں کہاکہ میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہم آج بھی اتحاد کے علاقے کے ہر انچ کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ڈنمارک کے وزیر دفاع ٹرولس لیونڈ پولسن نے گرین لینڈ پر حملے کی صورت میں امریکا کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حملہ ہوا تو مسلح افواج احکامات کا انتظار کئے بغیر فوری جواب دیں گی، گرین لینڈ ڈنمارک کے اندر ایک خود مختار علاقہ ہے ۔

اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے کہا ہے کہ یقین نہیں امریکا گرین لینڈ پر کنٹرول کیلئے فوجی کارروائی کرے گا۔ اپنے بیان میں اطالوی وزیراعظم نے کہا کہ گرین لینڈ میں ممکنہ امریکی مداخلت کے نیٹو پر گہرے اثرات ہوں گے ، تمام اتحادیوں کو اس کے ممکنہ نتائج کو سمجھنا چاہئے ۔ جارجیا میلونی نے کہا کہ آرکٹک خطے ، بشمول گرین لینڈ میں نیٹو کی سنجیدہ اور مؤثر موجودگی ضروری ہے ۔ وائٹ ہاؤس میں تیل کمپنیوں کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وینزویلا میں 100 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری پر غور کر رہے ہیں۔ تیل کمپنیاں امریکا سے براہ راست ڈیل کریں گی، وینزویلا سے نہیں،امریکا فوری طور پر وینزویلا کے 5 کروڑ بیرل تیل کی ریفائننگ اور فروخت شروع کرے گا۔ وینزویلا کی طرف سے گزشتہ روز ہمیں 30 ملین بیرل تیل دیا گیا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں