تھرپارکر:پی پی ایم پی ایز میں اختلافات، قتل سازش کا الزام

تھرپارکر:پی پی ایم پی ایز میں اختلافات، قتل سازش کا الزام

وزیراعلیٰ کے رابطے کا دعویٰ، الزام بے بنیاد، ارباب امیر، بلاول آج تھر پہنچیں گے

تھرپارکر (نمائندہ دنیا)تھرپارکر میں پیپلز پارٹی کے ایم پی ایز میں اختلافات سامنے آئے ہیں، رکن صوبائی اسمبلی سریندر ولاسائی نے اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے بھائی پر اپنے قتل کی سازش کا الزام عائد کیا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈیپلو اور کلوئی میں مبینہ طور پر نجی ٹارچر سیل قائم ہیں اور ان کے رشتہ داروں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر بیانات وائرل ہونے کے بعد سریندر ولاسائی نے اس حوالے سے وزیر داخلہ سندھ کو بھی خط ارسال کیا ہے ، جس میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ارباب خاندان کے قریبی افراد ان کے قتل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ارباب عالم، بچو اور صالح نامی افراد کو انہیں قتل کرنے کی مبینہ سپاری دی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار نامزد افراد ہونگے ۔ سریندر ولاسائی کے مطابق تھر میں دیوی کے درختوں کی کٹائی، منشیات فروشی، سود خوری اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کلوئی اور ڈیپلو میں بعض پولیس اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے نجی ٹارچر سیل چلائے جا رہے ہیں، جہاں شہریوں پر تشدد کر کے بھتہ وصول کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر ان کے سسرالی گھر پر حملہ کیا گیا، جبکہ بچو نامی شخص نے ان کے ماموں ہر جی مل کے پلاٹ پر قبضے کی کوشش کرتے ہوئے کھلی دھمکیاں دیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مبینہ فرنٹ مین فروش ولی آمر ان کے رشتہ داروں کو ہراساں کر رہا ہے اور ان کی خاندانی جائیداد پر قبضے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

خط کے مطابق بعض تنازعات کی ایک وجہ غلام محمد راہو کالج کی منظوری بھی ہے جس پر سیاسی اختلافات پیدا ہوئے ۔ سریندر ولاسائی نے دعویٰ کیا کہ وزیرِ اعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے ان سے رابطہ کر کے تفصیلات حاصل کی ہیں اور تھر میں منشیات فروشوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ دوسری جانب ایم پی اے ارباب لطف اللہ کے بھائی ارباب امیر انعام اللہ نے سوشل میڈیا پر سریندر ولاسائی کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی مقاصد کے تحت لگائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بغیر ثبوت کسی شہری پر الزام لگانا قانونی طور پر غلط ہے اور ایسی باتیں سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ دریں اثنا پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج تھر پہنچیں گے ، جہاں وہ این ای ڈی یونیورسٹی کے تحت قائم انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مٹھیڑیو بھٹی کا افتتاح کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں