2025:ایف آئی آرکرانے کی 5 ہزار زیادہ شکایات درج

 2025:ایف آئی آرکرانے کی 5 ہزار زیادہ شکایات درج

66ہزار شہریوں نے ایف آئی آر کے عدم اندراج کی شکایات درج کروائیں ناقص تفتیش کی 41ہزار،پولیس سروسز کی بابت 8300شکایات درج ہوئیں

 لاہور (مد ثر حسین سے ) پنجاب پولیس کی عمارتیں بدل گئیں لیکن رویے نہ بدل سکے ،سال 2024 کی نسبت 2025 میں شکایات ساڑھے 5 ہزار زیادہ درج ہوئیں ۔لاہور سمیت پنجاب بھر میں گزشتہ سال اور رواں سال 1 لاکھ 57 ہزار شکایات درج ہوئی ہیں ،شہریوں کا سب سے زیادہ مسئلہ ایف آئی آر کے عدم اندراج ناقص تفتیش،رشوت اور کرپشن کی بابت تھیں۔2025 میں شہریوں کا سب سے زیادہ مسئلہ ایف آئی آر کا عدم اندراج رہا 66ہزار شہریوں نے عدم اندراج کی شکایات درج کروائیں۔ناقص تفتیش کی 41 ہزار،پولیس سروسز کی بابت 8300 شکایات درج ہوئیں۔رشوت ستانی،اختیارات سے تجاوز اور کرپشن سے متعلق 24 ہزار شکایات آئیں۔

پولیس کے اپنے ملازمین نے افسران کے خلاف 1200 شکایات درج کروا ڈالیں ۔ آن لائن شکایات درج کرانے کی سہولت کے باوجود عوام مسائل حل نہ ہونے کا شکوے کرتے رہے ۔ روزنامہ دنیا کے سروے میں شہریوں کا کہنا تھا کہ پولیس کا رویہ تبدیل نہیں ہوا ہم تھانے میں جاتے ہیں ، پولیس ہم سے ہی تفتیش شروع کر دیتی ہے ۔ایک شہر ی جس کا رکشہ نولکھا تھانے کے قریب سے چوری ہوا تھا اس نے بتایا کہ میں دو دن سے تھانے آرہا ہوں ، تھانہ نولکھا پولیس میرا مقدمہ درج نہیں کر رہی ۔ پولیس والے دو دن سے میری ہی تفتیش کر رہے ہیں اور چور میرا نقصان کر کے رفوچکر ہو گئے ہیں۔دوسری جانب آئی جی آفس کی طرف سے پولیس کی ویلفیئر پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔2025 میں پولیس ویلفیئر پر 2 ارب 45 لاکھ روپے سے زائد رقم خرچ کی گئی۔ پولیس ملازمین اور اہلخانہ پر روزانہ 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رقم خرچ کی جا رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں