ہائیکورٹ : لاہور میں درختوں کی کٹائی، تراش خراش پر پابندی : ناصر باغ کی بحالی کا حکم
شاخیں حادثہ کے پیش نظر کاٹیں:ممبر،درخت سے کیسا حادثہ؟بغیراجازت شاخیں نہ کاٹی جائیں:جسٹس شاہد کریم داتا دربار پر پرانا درخت اکھاڑنے کی کوشش پر شوکاز جاری کیا:بیرسٹر حارث، پی ایچ اے کو عملدرآمد یقینی بنانیکی ہدایت
لاہور (کورٹ رپورٹر، سٹاف رپورٹر سے) لاہور ہائیکورٹ نے درختوں کی کٹائی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ضلع لاہور بھر میں درختوں کی کٹائی اور تراش خراش پر فوری پابندی عائد کردی۔ لاہورہائیکورٹ نے غیر مجاز طور پر کسی بھی درخت کی کٹائی پر مکمل پابندی عائد کی اور پی ایچ اے کے تمام ڈائریکٹرز کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔عدالت عالیہ نے پی ایچ اے کو ناصر باغ پارک کو بحال کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق و دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔
ممبر جوڈیشل واٹر کمیشن نے کینال روڈ سے درختوں کی کٹائی سے متعلق رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ درخت کاٹے نہیں گئے بلکہ صرف شاخیں کاٹی گئی ہیں، تین بڑی شاخیں انڈر پاس کی جانب بڑھ رہی تھیں، شاخیں نہ کاٹنے کی صورت میں حادثہ پیش آ سکتا تھا۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ درخت کی وجہ سے کیا حادثہ پیش آسکتا تھا اور اب تک کتنے حادثات ہوئے ہیں؟ ۔وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ پی ایچ اے نے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو معطل کر دیا ہے اور ان کے خلاف پیڈ ایکٹ کے تحت کارروائی شروع ہو چکی ہے۔ بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ نئے پروجیکٹ ڈائریکٹر عدالت میں موجود ہیں، داتا دربار کے قریب ٹیپا نے ایک پرانے درخت کو اکھاڑنے کی کوشش کی جس پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے ۔
جسٹس شاہد کریم نے حکم دیا کہ ناصر باغ کے پارک کو پی ایچ اے اپنی نگرانی میں بحال کرے گا۔ عدالت نے واضح ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی پی ایچ اے کی اجازت اور علم کے بغیر کسی بھی درخت کی شاخیں نہیں کاٹی جائیں گی۔ادھر ایم ڈی پی ایچ اے لاہور نے پابندی سے متعلق مراسلہ جاری کر دیا جس میں کہا گیا ہے کہ درختوں کی شاخوں کی معمولی کٹائی، تراش خراش یا پروننگ بھی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر نہیں کی جا سکتی،بجلی کے تاروں کی کلیئرنس، حفاظتی اقدامات یا خوبصورتی کی بحالی کیلئے بھی اجازت درکار ہوگی،ماحولیاتی تحفظ اور شہری ہریالی کے فروغ کیلئے درختوں کا تحفظ ناگزیر ہے ، کسی قسم کی خلاف ورزی پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ہارٹیکلچر ایجنسی لاہور کے تمام ڈائریکٹرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور انچارج افسروں کو مراسلہ جاری کیا گیا۔