وفاق شوگر سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرے :مرادعلی شاہ
صوبائی کابینہ کا اجلاس،56ارب کا سندھ گندم کاشتکار امدادی پروگرام شروع شوکت خانم ٹرسٹ کو سال کیلئے انفراسٹرکچر سیس سے استثنیٰ دینے کی منظوری
کراچی(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تعلیم، ثقافت، سکیورٹی، زراعت سمیت دیگر شعبوں سے متعلق فیصلوں کی منظوری دیدی گئی۔کابینہ نے این ای ڈی یونیورسٹی کے گرلز ہاسٹل میں دوسری منزل کی تعمیرکیلئے 19کروڑ2 لاکھ 11 ہزار روپے ،سکھر میں سینٹ سیویئرز چرچ اور حیدرآباد میں سینٹ تھامس کیتھڈرل چرچ کی بحالی اور مرمت کیلئے 10 کروڑ 95 لاکھ روپے ،کراچی لٹریچر فیسٹیول کیلئے 3 کروڑ روپے ، سندھ آرکائیوز کو مضبوط بنانے کیلئے 10 کروڑ روپے ،صوبائی انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کے فعال قیام کیلئے 1 ارب 24 کروڑ روپے کی منظوری دیدی ۔کابینہ کو وفاقی حکومت کے منصوبے پر بریفنگ دی گئی جس کے تحت 2026 تک پاکستان کے شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کرنے کا ارادہ ہے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ لازمی یقینی بنایا جائے ،وفاق شوگر سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کرے ،56 ارب روپے سے سندھ گندم کاشتکار امدادی پروگرام کا آغاز بھی کیا گیا جس کے تحت کاشتکاروں کو 22 ہزار روپے فی ایکڑ فراہم کیے جائیں گے ۔کابینہ نے سندھ کلائمیٹ چینج فنڈ و سندھ کلائمیٹ چینج بورڈ کے قیام اور شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کو ایک سال کیلئے انفراسٹرکچر سیس سے استثنیٰ دینے کی منظوری بھی دی۔