واپس لئے گئے آرڈیننس میں کیا تھا؟سٹیل ملزاراضی پر اکنامک زون کا قیام وجہ تنازع؟

واپس  لئے گئے آرڈیننس میں  کیا  تھا؟سٹیل ملزاراضی پر اکنامک زون کا  قیام وجہ  تنازع؟

آرڈیننس میں 10سالہ ٹیکس وڈیوٹی کی چھوٹ سے عام صنعتیں مقابلہ نہ کرپاتیں، سمگلنگ بڑھنے کا احتمال تھا:پی پی ذرائع سپیشل اکنامک زون میں ٹیکس چھوٹ تو ہوتی ہے ، اعتراض کی کوئی وجہ نہیں بنتی،شایدسٹیل ملزاراضی پرتحفظات :لیگی حلقے

اسلام آباد(حریم جدون)صدر مملکت نے سپیشل اکنامک زون آرڈیننس واپس لینے کیلئے وزیراعظم کی سمری کی منظوری دیدی ،وزارتِ قانون و انصاف نے نوٹیفکیشن بھی جا ری کردیا ۔ حکومت اور پیپلزپارٹی کے مابین اختلاف کا باعث بننے والا آرڈیننس واپس تو لے لیا گیا ہے مگر یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ آیا پیپلزپارٹی کو صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کے اجرا پر اعتراض تھا یا سپیشل اکناک زون ایکٹ میں کی جانے والی بعض ترامیم کے تحت کچھ خاص اقدامات پر اختلاف تھا؟ حکومت کا دعویٰ ہے۔

کہ اس کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ اور خصوصی اقتصادی زون کے نظام کو موثر بنانا تھا تاہم پیپلزپارٹی کا اعتراض ہے کہ ترامیم کے تحت ٹیکس اور ڈیوٹی میں 2035 تک 10 سال کی چھوٹ سے مقامی صنعتیں متاثر ہوں گی اور سمگلنگ میں بھی اضافے کا خدشہ ہے تاہم لیگی ذرائع کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز کی خالی پڑی اراضی پر اکنامک زون کے قیام کا پلان تھا جس پر شاید کچھ تحفظات ہوں تاہم پیپلزپارٹی کے ساتھ اس معاملے پر مشاورت ہوگی اور اتفاق رائے سے ترامیم دوبارہ لائی جائیں گی۔ واپس لیے جانے والے مجوزہ آرڈیننس میں ترامیم کے اہم مقاصد میں سرمایہ کاری کو آسان بنانا، انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنا، تنازعات کے فوری حل کو یقینی بنانا اور صنعتی و معاشی ترقی کو تیز کرنا بتایا گیا۔

اس کے ساتھ سپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے والی 10صنعتوں کیلئے 30 جون 2035 تک انکم ٹیکس کی چھوٹ شامل تھی۔ تنازعات کے فوری حل کیلئے عام عدالتوں کے بجائے سپیشل اکنامک زون اپیلٹ ٹربیونل کے قیام کی تجویز تھی۔ ترمیمی آرڈیننس میں سپیشل اکنامک زونز ایکٹ 2012 میں ترامیم کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے اختیارات کو واضح اور ہم آہنگ کرنے کی تجاویز دی گئی تھیں۔آرڈیننس کے تحت وفاقی سپیشل اکنامک زونز اتھارٹی کے قیام کی باقاعدہ قانونی بنیاد کی تجویز دی گئی تھی۔ترامیم میں سپیشل اکنامک زون اتھارٹی کی تعریف کو وسیع کرکے وفاقی اور صوبائی دونوں اتھارٹیز کو شامل کیا گیا۔ سپیشل اکنامک زون کے قیام کیلئے درخواست دینے کا طریقہ واضح کیا گیا۔ بڑے خصوصی اکنامک زونز میں ایک سے زائد ڈویلپرز کی اجازت دی گئی تھی بشرطیکہ زون کم سے کم ایک ہزار ایکڑ کا ہو اور ہر ڈویلپر کو کم از کم 500 ایکڑ ڈویلپ کرنے کیلئے ملے ۔ ترمیمی آرڈیننس سامنے آیا تو پتہ چلا کہ یہ صدر کے دستخط کے بغیر جاری ہوا ہے ۔ اس پر پیپلزپارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ قومی اسمبلی سے احتجاجاً واک آئوٹ کیا۔

آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا گیا تاہم اسی رات حکومت نے آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کیا اور صدر کو سمری ارسال کی۔ صدر نے بدھ کے روز آرڈیننس واپس کرنے کی سمری کی منظوری دی اور وزارت قانون نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔اس ساری صورتحال میں پیپلزپارٹی کا موقف ہے کہ صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس کا اجرا تو غیر آئینی عمل تھا ہی تاہم اسکے ساتھ آرڈیننس میں کی جانے والی ترامیم پر بھی سخت خدشات تھے ۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس آرڈیننس میں خصوصی اقتصادی زونز میں قائم صنعتوں کو 2035 تک 10 سال کیلئے انکم ٹیکس اور ڈیوٹیز کی چھوٹ دی گئی ہے جس سے عام مقامی صنعتوں پر اثر پڑے گا، یہ صنعتیں سبسڈی یافتہ صنعتوں کا مقابلہ نہ کرپاتیں، اس طرح سبسڈی حاصل کرنے والی صنعتوں کی عام مارکیٹ میں سپلائی سے سمگلنگ کا رجحان بھی بڑھنے کا احتمال تھا۔ ادھر مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپیشل اکنامک زون میں ٹیکس کی چھوٹ تو ہوتی ہے ، اس معاملے پر اعتراض کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں