امریکی ویزوں پرپابندی تکنیکی ،پاکستان ٹارگٹ نہیں
امریکا امیگریشن سسٹم کو بہتر کررہا،بزنس اورتعلیمی ویزے جلد بحال ہونگے
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکا کی جانب سے پاکستان سمیت 75ممالک کیلئے امریکی امیگرنٹ ویزوں کی بندش ایک مسلسل عمل ہے جو امریکی حکومت اپنے مفادات اور سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں وقتاً فوقتاً کرتی رہتی ہے اس کا دورانیہ طے نہیں ہوتا اور یہ سلسلہ تب تک برقرار رہتا ہے جب تک یہ خود امریکا کی ضرورت ہوتی ہے اور امریکی تحفظات دور ہونے کے بعد پابندیوں کا عمل نہ صرف ختم ہوتا ہے بلکہ ان کو اور شرائط سے مشروط کرتے ہوئے بحال کر دیا جاتا ہے لہٰذا موجودہ حالات میں جب پاکستان اور امریکا کے درمیان دس مئی کے بعد کے حالات کے باعث اچھے اور بہتر سفارتی تعلقات قائم ہوئے ہیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پابندی کا یہ عمل ہماری حکومت یا ریاست کے حوالہ سے ہے بلکہ پابندی کا یہ عمل امریکی امیگریشن سسٹم کے تحفظات کے ضمن میں ہے اور پابندیاں اس پر لگائی جاتی ہیں جو امریکی امیگریشن کے معیار پر پورا نہیں اترتے ۔
حقائق کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان اور امریکاکے درمیان تعلقات میں بہتری آئی اور خود امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان کے حوالہ سے رائے دس مئی کے بعد بہت بہتر ہوئی وہ پاکستان کے سپہ سالار فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو ورکنگ لنچ پر بلاتے بھی نظر آئے ۔سب سے اہم بات یہ کہ دس مئی سے قبل خطہ کی سیاست میں ان کا اتحادی بھارت تھا اور وہ خطہ کی صورتحال کو اس کی نظر سے دیکھتے تھے لیکن دس مئی کے بعد علاقائی سیاست میں پاکستان کا کردار بڑھا ہے اور وہ اس کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں لہٰذا یہ سمجھ لیاجائے کہ امیگرنٹ ویزوں کی بندش خالصتاً تکنیکی بنیادوں پر ہے ا س میں پاکستان کو ٹارگٹ نہیں کیاگیا۔اصل میں امریکا بدلتے ہوئے حالات اور خصوصاً دہشت گردی اور شدت پسندی کے رجحانات کے پیش نظر یہ چاہتا ہے کہ اس کے امیگریشن سسٹم میں تارکین وطن کی جانب سے مہیا کی جانے والی دستاویزات ا ور ان کی شناخت کے حوالہ سے دشواریاں پیدا نہ ہوں۔
تازہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کی جانب سے اپنے امیگریشن سسٹم میں بہتری کے بعد پاکستان کے پاسپورٹ رینکنگ میں پہلے سو ممالک کی صف میں آ گیا ہے ،پہلے اس رینکنگ میں پاکستان کا نمبر 124واں تھا جو اب 98نمبر پر آ گیا ہے جس کا مطلب یہ کہ پاکستان نے بھی اپنے ہاؤس کو ان آرڈر کرنے کے لئے اپنے سسٹم میں بہتری پیدا کی ہے ۔بیرون ملک سے آنے والے زرمبادلہ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے جو پاکستان کے معاشی بحران میں مددگار ثابت ہو رہا ہے ،لہٰذا یہی وجہ ہے کہ امریکا بھی پاکستانیوں پر مکمل پابندی کا خواہاں نظر نہیں آتا اور اس بنا پر کہا جا رہا ہے کہ پاکستانیوں پر امیگرنٹ ویزے پر پابندی میں نرمی آئے گی ۔حکومت امریکی تحفظات دور کر رہی ہے اور اسی بنا پر بھی حکومتی ترجمان نے پابندی کے خاتمہ کا عندیہ دیا ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ مستقبل قریب میں طلبا بزنس ا ور سفارتی ویزوں کی سہولت جلد بحال ہو گی ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی کے حوالہ سے آنے والے اس بیان پر زیادہ پریشانی کی ضرورت نہیں، امریکااپنی ویزا پالیسی میں نرمی کے لئے سکیورٹی کلیئرنس امیگریشن کلیئرنس امیگریشن قوانین پر عمل درآمد اور دستاویزات کی تصدیق سے مشروط رکھتا ہے اور پاکستان اس ضمن میں پہلے سے ہی اقدامات کرتا نظر آ رہا ہے ۔