الیکشن کمیشن خودکیسے کہہ سکتاہے اسکاحکم درست:آئینی عدالت
سپریم کورٹ کے احکامات پرعمل کیوں نہیں کیا؟وکیل الیکشن کمیشن سے استفسار عدالت نے دوبارہ گنتی کاحکم دیا،الیکشن کمیشن نے پہلی گنتی پراتفاق کرلیا،وکیل
اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے حلقہ پی بی 21 میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت کی، صالح بھوتانی کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ الیکشن 2024 میں مبینہ دھاندلی کے خلاف 9 فروری کو درخواست دائر کی توالیکشن کمیشن نے دوبارہ گنتی کا حکم دیا، 11 فروری کو فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائیکورٹ میں نظرثانی دائر کی گئی۔
بلوچستان ہائیکورٹ نے فیصلے میں 39 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ انتخابات کا حکم دیا، بعد ازاں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو دوبارہ گنتی کروانے کا حکم دیدیا، مگر الیکشن کمیشن نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہیں کیا اور پہلی گنتی پر ہی اتفاق کر لیا۔ جسٹس امین الدین خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل کو روسٹرم پر بلا کراستفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پرعملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔ جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیئے کہ الیکشن کمیشن خود کیسے کہہ سکتا ہے کہ اس کا پہلے والا حکم درست ہے ۔بعد ازاں سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔