حمایت میں لوگ نکلے تو لگا تہران میں کچھ نہیں ہوا ، باقری

 حمایت میں لوگ نکلے تو لگا تہران میں کچھ نہیں ہوا ، باقری

ٹرمپ فوری حملہ نہیں کرے گا،اگر حملہ کرنا ہوا تو سوچ سمجھ کر کرے گا جنگ ہوئی تو جو کچھ کہا ہے وہ کرکے دکھائیں گے ،’’دنیا مہر بخاری کیساتھ ‘‘

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)ماہر بین الاقوامی امورمحمد حسین باقری نے کہا ہے کہ ایرانی عوام جب پیر کے روز حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے تو حالات کنٹرول میں ہوگئے تھے ،حکومت کی حمایت میں 30لاکھ لوگ صرف تہران کے اندر موجود تھے ، اس کے بعد تہران میں ابھی تک کوئی مظاہرے کی آواز آئی، نہ کوئی شورشرابا ہوا،ایسا لگ رہا ہے کہ اس شہر میں کچھ ہوا ہی نہیں تھا، اس وقت حالات کنٹرول میں ہیں، حکومت نے تمام انتظامات سنبھال لئے ہیں۔

دنیا نیوز کے پروگرام دنیا مہر بخاری کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا اگر کوئی میڈیا دکھا رہاہے تو کچھ تصاویر اور ویڈیو وہ سب پرانی ہیں،ایران ،اسرائیل کی حملے میں پہل کرنے کے بارے میں کوئی بات طے نہیں ،نہ کسی نے اس پر تیسری پارٹی نے معاملہ طے کرایا ہے،کشیدگی کو کم کرانے کیلئے روس ،قطر ، چین متحرک ہیں،پاکستان بھی اپنا کردار ادا کررہا ہے ،مزید کہا ہے کہ اگر روس یا کوئی ملک ضمانت دیتے بھی ہیں تو ایران ماننے کوتیار نہیں ،ایران مکمل جنگی تیاری میں ہے ،جونہی کچھ ہوتا ہے ،ایران اس کوفورا جواب دے گا انہوں نے کہا امریکا اور اسرائیل نے جوپہلے حملے کئے تھے جن کو نشانہ بنایا تھا، اگر اب حملہ بھی کرتے ہیں تو انہی مقامات کو نشانہ بنائیں گے ،اس کے علاوہ وہ کیا کرسکتے ہیں،ایران کے پاس کئی آپشن ہیں۔

ایران نے واضح کہا ہے کہ اگر حملہ ہوتا ہے تو جوابی کارروائی میں اسرائیل پر حملہ کریں گے اس کے ساتھ ساتھ امریکا کے مشرق وسطی ٰمیں جتنے فوجی اڈے ہیں،ان کو بھی نشانہ بنائیں گے ،اللہ کرے جنگ نہ ہو، اگر جنگ ہوئی تو ایران نے جو کچھ کہا ہے وہ کرکے دکھائے گا،اس وجہ سے یو اے ای، قطر،سعودی عرب،دیگر ممالک کشیدگی کم کرانے کیلئے درمیان میں آگئے ہیں،ٹرمپ فوری حملہ نہیں کرے گا،اگر اس نے حملہ کرنا ہوا تو سوچ سمجھ کر کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں