کراچی:ـ26گھنٹے میں آگ نہ بجھ سکی،پلازہ کی1200دکانیں خاکستر،6اموات،65افراد لاپتہ
جاں بحق افراد میں فائرفائٹر بھی شامل، 18 زخمی ، اربوں کا نقصان،عمارت کے دو حصے منہدم، مرتضیٰ وہاب کے پہنچنے پر تاجروں کا احتجاج،میئر نامنظور کے نعرے صدر ، وزیراعظم ،بلاول کا سانحہ پر افسوس کا اظہار،شہباز شریف کا مراد شاہ سے رابطہ، تعاون کی پیشکش،تاجروں کو اکیلا نہیں چھوڑینگے ، وزیراعلیٰ ، پلازے کا دورہ
کراچی (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، خبر ایجنسیاں)کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر 26 گھنٹے سے زائد گزرنے کے باوجود اتوار کی رات ایک بجے تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کا عمل پورا ہونے میں ایک سے دو دن لگ سکتے ہیں، آتشزدگی کے باعث 12 سو دکانیں جل کر خاکستر، عمارت کے دو حصے منہدم، جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی، ان میں فائر فائٹر بھی شامل ہے ،65 افراد تاحال لاپتا ہیں،18 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے رابطہ کر کے سانحہ گل پلازہ پر افسوس کا اظہار اور مکمل تعاون کی پیشکش کی ہے ۔ادھر میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کے 23 گھنٹے بعد گل پلازہ پہنچنے پر تاجروں نے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ میئر مرتضیٰ وہاب کی آمد پر تاجروں نے احتجاج کیا اور میئر نامنظور کے نعرے لگائے ۔ مشتعل تاجروں نے ڈی سی آفس کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی جس پر اضافی نفری تعینات کردی گئی۔ میئر کراچی نے گل پلازہ کے صدر سمیت چند افراد کوڈی سی آفس بلالیا۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ میں بھاگنے والا نہیں ہوں ، کہیں نہیں جارہا، پہلے لاپتا افراد کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں ، جس کو میرا گلا پکڑ نا ہے کل پکڑ لے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے آج اجلاس طلب کرلیا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کو گل پلازہ میں آتشزدگی سے متعلق کمشنر کراچی اور ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کی رپورٹ پیش کر دی گئی ۔
رپورٹ کے مطابق گل پلازہ میں آتشزدگی کا واقعہ رات 9:45 سے 10:15 بجے کے درمیان پیش آیا، 1200 سے زائد دکانیں جل گئیں، فائر بریگیڈ کی کارروائی کے بعد آگ پر 60 سے 70 فیصد قابو پا لیا گیا۔وزیراعلیٰ نے گل پلازہ آتشزدگی کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ ،جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت ، سانحہ میں بھاری مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ریسکیو اور کولنگ کا عمل آگ مکمل طور پر بجھ جانے تک جاری رکھا جائے ۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جائے ۔ ان کا کہنا تھا سندھ حکومت نے تاجر برادری کو نہ پہلے اکیلا چھوڑا اور نہ اب چھوڑے گی۔ وزیراعلیٰ نے کمشنر کراچی کو واقعہ کی فوری انکوائری کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ غفلت یا لاپروائی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے ۔مراد علی شاہ نے اتوار کی شام گل پلازہ کا دورہ بھی کیا جہاں انہوں نے ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشنز کا جائزہ لیا اور سانحہ کے حوالے سے میڈیا سے بات چیت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ علاقہ بڑا تجارتی مرکز ہے ، خاص طور پر شادیوں کے سیزن میں لوگ یہاں خریداری کرنے آتے ہیں ۔
وزیراعلیٰ نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا 58 سے 60 افراد اب بھی لاپتا ہیں، ہم ان سب کی حفاظت کے لیے دعا اور امید کرتے ہیں وہ زندہ مل جائیں۔ انہوں نے کہا متاثرہ عمارت ایک بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور تین منزلوں پر مشتمل تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد دکانیں تھیں۔ آگ لگنے کے حوالے سے قیاس آرائیوں پر انہوں نے کہا کہ حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ کچھ ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہائی آتش گیر مواد کی موجودگی کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلی۔ انہوں نے متاثرہ دکانداروں اور اہل خانہ سے بھی ملاقات کی، انہیں ذاتی طور پر تسلی دی اور ان کے دکھ میں شریک ہوئے ۔ وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ حکومت واقعہ کی مکمل تحقیقات اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے گی جبکہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ریسکیو حکام کے مطابق آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر ممکنہ طور پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جو تیزی سے گراؤنڈ اور فرسٹ فلور تک پھیل گئی۔ممکنہ طور پر اب بھی کئی افراد مخدوش عمارت میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ پلازہ کی تمام دکانیں مکمل طور پر جل چکی ہیں، آگ کے نتیجے میں تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے ۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق 2 زخمی فائرفائٹرز ارشاد اور بلال پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں جبکہ 13 زخمی برن سینٹر اور 15 اس کے ٹراما سینٹر اور 2 جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ جاں بحق ہونیوالوں کی شناخت کاشف ولد یونس عمر 40 سال، فراز ولد ابرار عمر 55 سال، محمد عامر ولد نامعلوم عمر 30 سال، فرقان ولد شوکت علی عمر 25 سال کے نام سے ہوئی ہے ۔ ہفتہ کو لگنے والی آگ سے عمارت کے دو حصے گر گئے ۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کی کوششوں کے باوجود دوبارہ بھڑک جاتی ہے ۔ کمشنر کراچی کا کہنا ہے کہ آگ پر 90 فیصد تک قابو پالیا گیا ہے ۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے بتایا کہ لاپتا افراد سے متعلق معلومات جمع کی جارہی ہیں، اب تک 6 لاشیں نکال لی گئی ہیں جو شناخت کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں، آگ لگنے کی اصل وجہ کولنگ کے بعد تحقیقات میں سامنے آئے گی۔ سی پی ایل سی شناخت پروگرام کی ٹیم نے سول ہسپتال ٹراما سینٹر کے باہر کیمپ لگادیا۔ انچارج عامر حسن کے مطابق متاثرین اپنے لاپتا پیاروں سے متعلق تفصیلات سی پی ایل سی ہیلپ ڈیسک پر فراہم کرسکتے ہیں۔ افسوسناک سانحے میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے آئے افراد کی آنکھیں اشکبار ہیں، متاثرین کے اہل خانہ رات سے اپنے پیاروں کی تلاش میں پلازہ اور ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔
شاپنگ مال میں کام کرنے والا عارف ہفتہ کی رات سے لاپتا ہے جبکہ شادی کی خریداری کیلئے آئی ایک ہی خاندان کی4خواتین بھی لاپتا ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بیسمنٹ اوراندرونی حصے سے آوازیں آ رہی ہیں۔ چیف آپریٹنگ آفیسر ریسکیو عابد جلال نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے 150 سے زائد فائر فائٹرز کام کر رہے ہیں، ابھی تک 75 فیصد آگ پر قابو پایا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ متاثر ہ عمارت انتہائی مخدوش حالت میں ہے ، عمارت کے عقبی حصے پہلے گر چکے تھے ، اگلا حصہ بھی گرچکا ہے ۔ مخدوش حالات میں عمارت کے اندر جاکر ریسکیو کام کرنا خطرناک ہے ، عملے کی سیفٹی کیلئے آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد سر چ آپریشن کیا جائے گا۔ریسکیو ترجمان نے بتایا کہ گل پلازہ میں 1200 دکانیں ہیں اور ان میں جلدی آگ پکڑنے والا سامان جیسے کہ پلاسٹک فوم، کپڑا، قالین اور پرفیوم وغیرہ موجود ہیں۔حسان الحسیب کے مطابق عمارت انتہائی پرانی ہے اور آگ سے اس کے گرنے کا خدشہ بھی موجود ہے ، اس وجہ سے ریسکیو آپریشن غیر معمولی احتیاط سے کیا جا رہا ہے ۔
تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ سے تاجروں کا تقریباً 3 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ ہر دکان میں 25 سے 30 لاکھ روپے کا مال تھا ۔ شادیوں کا سیزن ہے اور عید قریب ہے ، حکومت متاثرہ تاجروں کے لیے بولٹن مارکیٹ طرز کے پیکیج کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں کل یوم مذمت اور یوم سوگ منایا جائے گا۔ صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن کے مطابق 80 سے 100 افراد عمارت میں موجود ہوسکتے ہیں۔صدر مملکت اور وزیراعظم شہباز شریف نے گل پلازہ شاپنگ پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ صدر مملکت نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر تعزیت اور لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ۔صدر آصف علی زرداری نے ہدایت کی کہ سندھ حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرہ افراد اور تاجروں کو فوری اور ہرممکن امداد فراہم کریں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے ۔
وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے لئے تمام تر اقدامات کیے جائیں، متاثرہ تاجروں اور دیگر افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے ، ریسکیو آپریشن میں تمام متعلقہ ادارے مل جل کر کام کریں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر اعظم نے زخمیوں کو تمام تر سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت اور انکی جلد از جلد صحتیابی کی دعا کی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور بھاری مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔انہوں نے واقعہ کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی کی وجوہات کا تعین کیا جائے اور مستقبل میں اس نوعیت کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے ۔ سپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ ، اپوزیشن لیڈر سندھ علی خورشیدی ،چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی ،شیری رحمن و دیگر نے بھی آتشزدگی کے افسوسناک واقعہ میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔