غیر جانبدار الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروائے جائیں:تحریک تحفظ آئین پاکستان

غیر  جانبدار  الیکشن  کمیشن  شفاف  انتخابات  کروائے  جائیں:تحریک  تحفظ  آئین  پاکستان

عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں پر آرٹیکل 6 لگایا جائے ، اسیروں کو رہا، پختونخوا میں آپریشن روکا جائے :اے پی سی کا اعلامیہ 8 فروری کو ہڑتال ،پہیہ جام ہوگا:اچکزئی، اسد قیصر ،مفتاح ، راجہ ناصر ، محمدزبیر ،مشتاق احمد ، ظفر شاہ ودیگر کا خطاب

کراچی(سٹاف رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک )تحریک تحفظ آئین پاکستان نے آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں غیرجانبدار الیکشن کمیشن کے تقرر اور صاف شفاف انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ چھیننے والوں کیخلاف آرٹیکل 6 لگایا جائے ۔کراچی پریس کلب میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیے میں تحریک تحفظ آئین پاکستان نے اپنے مطالبات پیش  کردئیے اور کہا ہے کہ غیرجانبدار الیکشن کمیشن کا تقرر کیا اورمنصفانہ الیکشن کروائے جائیں۔اعلامیہ میں کہا گیاحکومت سندھ عوام کو سہولیات دینے میں ناکام ہوگئی ہے ، 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے میڈیا کی آزادی ختم کر دی گئی ہے ۔

اعلامیے میں اپوزیشن نے ججوں کے جبری تبادلوں کی مذمت کی، اسی طرح بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی سمیت دیگر سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملاقات نہ کرانے کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ عمران خان سے ملاقات پر عائد پابندی ہٹائی جائے ۔کانفرنس میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے ) کے رہنماؤں پر جھوٹے مقدمات کی مذمت بھی کی گئی اور صحافیوں کے حقوق پر بات کرتے ہوئے پیکا ایکٹ کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا،صحافی مطیع اللہ جان پر جھوٹی ایف آئی آر، معروف وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر جھوٹے مقدمات کی مذمت کی گئی۔تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا کہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے جڑا ہوا ہے ، ملٹی نیشنل ادارے بند ہونے کو ہیں، سیاسی لوگوں کی جبری گمشدگیوں کو بند کیا جائے ، خیبرپختونخوا میں منعقد ہ جرگے پر عمل کیا جائے ۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے فوجی آپریشن کو روکا جائے اور آئین کے تحت معدنیات صوبوں کی ملکیت ہے ، پانی کی تقسیم 91 اکارڈ کے مطابق کی جائے ۔پڑوسی ممالک کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران پر بھی گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے ، حکومت ممکنہ بحرانوں کے مد نظر رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک کا اجلاس بلائے جبکہ غزہ کے معاملے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ۔اپوزیشن اتحاد نے کہا کہ 8 فروری کو شٹر ڈاؤن پہیہ جام بطور یوم سیاہ منایا جائے گا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی چیئرمین و قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اے پی سی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہترین ملک ہے ۔ہم اس کو دنیا کا بہترین ملک بنا سکتے ہیں ۔اگر صوبوں کو حق دیا جائے گا تو سب کہیں گے پاکستان زندہ باد۔ ہمیں ہر صوبے کے لوگوں کے وسائل کو سمجھنا ہوگا۔آئیے اپنے ملک کو بچائیں۔وزیرستان کے لوگوں کو بلائیں ،کہیں یہ ملک آپکا ہے ۔دیکھیں گے دہشت گردی ختم ہو جائے گی ۔مذہبی انتہا پسندی کے باوجود یہ لوگ خون کے پیاسے ہیں ۔سب بھائی بنیں پاکستان کو گلدستہ بنائیں ۔

آٹھ فروری کو ہم نے نکلنا ہوگا۔پرامن طریقے سے عوام کو اپنا احتجاج کرنا ہوگا ۔عوام کو اپنا اتحاد دکھانا ہوگا۔اے پی سی میں مختلف سیاسی ،مذہبی اور قوم پرست جماعتوں،وکلاء ،سول سوسائٹی کے رہنماؤں نے شرکت کی۔اے پی سی میں قومی ترانہ پڑھاگیا۔پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ۔سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کے لیے دعا کی گئی۔اے پی سی کے موقع پر پریس کلب کے باہر سکیو رٹی کے سخت انتظامات تھے ۔اچکزئی نے کہا کہ کراچی پاکستان کا علم اور دانش کا شہر ہے ۔ہم کراچی والوں کو لیکچر دینے یا سمجھانے نہیں آئے ۔جب انگریز حکمران تھے اس وقت بھی سندھ دھرتی کے لوگوں نے بغاوت کی ۔سندھ کے حر مجاہدین بھی انگریز سامراج سے لڑے ۔چھوٹے صوبوں کی باتیں کی جارہی ہیں ، برٹش انڈین آرمی کے چالیس ہزار سپاہی قبائلی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ جنگ کرتے رہے ۔پختونخوا کا عوام اگر دہشت گرد ہے تو تمام سفارتخانوں کے سامنے پختون گارڈ کیوں کھڑے ہیں .ایسی باتیں ہمیں دکھ دیتی ہیں ۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ ہمارا لیڈر دو سال سے زیادہ دنوں سے جیل میں ہے ۔جیل میں دو سو سے زیادہ پرچے جھوٹے ہیں ۔سارے پرچے زور اور جبر کی بنیاد پر بنے ۔عمران خان نے شاہانہ زندگی پر مشکل حالات کو ترجیح دی۔

اگر عمران خان وزیر اعظم رہا ذاتی کیا فائدہ اٹھایا ،جب بھی ملا ہوں نہیں لگا وہ جیل میں ہیں۔عمران خان نے کہا کمپرومائز نہیں کروں گا۔ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے ۔عمران خان نے کہا اگر اقتدار ملا تو کسی سے انتقام نہیں لونگا۔کیا یہ ملک کسی کے باپ کی جاگیر ہے ۔ملک قانون اور آئین کے مطابق چلتے ہیں۔ ہمیں روکا جاتا ہے کہیں جلسہ نہیں کر سکتے ۔ہمارا آئینی حق ہے کہ ہم عوام سے ملیں ۔ہم بھیڑ بکریاں تو نہیں۔کراچی کی بائیس سیٹوں میں سے ایک بھی ایک کیو ایم نہیں جیتی ۔عوام نے ووٹ کسی کو دیا اسمبلی میں کوئی اور بیٹھے ہیں۔کرپشن ،ظلم، جبر سے سندھ میں بھی اقتدار سنبھالا ہوا ہے .فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ ملک عوام کی مرضی سے چلے گا۔نواز شریف اپنی سیٹ ہار چکے ، شہباز شریف، مریم نواز بھی سیٹ ہار چکے تھے ، ان کا کوئی ضمیر نہیں، یہ لوگ بے ضمیر ہیں ۔اس اسمبلی کے پاس قانون سازی کا اختیار نہیں ہے ۔ہم جب بھی حکومت میں آئیں گے تمام قانون سازی کو واپس کریں گے ۔مجلس وحدت المسلمین کے سر براہ قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ظلم کے خلاف ڈٹ جاؤ۔مظلوم ظالم کے مقابلے میں فریاد بلند کرے ۔

اگر سر جھکائیں گے تو یہ عمل ناپسندیدہ ہے ۔پاکستان پر ظالموں کا قبضہ ہے ،ظلم جاری ہے ۔عوام کے مفاد میں جہاں قانون سازی ہونی چاہیے تھی وہ ظالموں کے قبضے میں ہے ۔ جس عدلیہ سے انصاف ملنا تھا وہ بھی ظالموں کے قبضے میں ہے ۔ان حالات میں ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے اپنے حق کے لیے بولے ۔بلوچستان ،کے پی جل رہا ہے ،سندھ میں محرومیت ہے ۔سب سے زیادہ سیاسی قیدی اس وقت پنجاب میں ہیں ۔اس وقت عمران خان کو جیل میں ڈال کر عوام کو جدا نہیں کر پائے ۔آٹھ فروری کو عوام نکلے ۔پرامن طریقے سے عوام نکلے تو یہ مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو نکلنا ہوگا ۔اگر عوام آٹھ فروری کو نکلی تو نو فروری کو بڑی تبدیلی آئے گی۔وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سید زین شاہ نے کہا کہ معیشت کا حال برا ہے ۔ وسائل کے کنٹرول کی جنگ ہے ۔پارلیمنٹ ربڑ اسٹیمپ ہے ۔صوبوں کو چھوٹے صوبے بنانے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ہم گالی سمجھتے ہیں سندھ کی تقسیم قبول نہیں۔سید زین شاہ نے کہا کہ پاکستان میں جس نظام نے قبضہ کیا ہے اس سے جان چھڑانے کیلئے عوام ہمارا ساتھ دے ۔ہم ایسا ملک چاہتے ہیں جس میں عدل و انصاف ہو۔8 فروری کی کال پر عوام ساتھ دے ۔

جنرل سیکرٹری جی ڈی اے ڈاکٹر صدر عباسی نے کہا کہ ہم اسی چوراہے پر پہنچ گئے جہاں چھوڑا گیاتھا ۔پاکستان میں ڈکٹیٹرشپ کی طویل تاریخ ہے ،ہم اس وقت کہیں نہیں کھڑے ،سیاسی جماعتوں کو بھی اپنی پارٹی کی جمہوریت پر دھیان دینا ہوگا۔جماعت اسلامی کے نائب امیر کراچی مسلم پرویز نے کہا کہ ابتداء سے یہاں پر اسمبلیاں توڑی گئی ہیں، یہاں نہ کبھی میڈیا آزاد رہا نہ عدلیہ، نہ سیاست۔ ایک الیکشن بھی آج تک آزاد نہیں ہوا۔چار ممالک اس وقت ٹارگٹ پر ہیں ۔استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چند ہفتوں میں حکومت نے دو سروے نکالے ہیں۔سروے میں بتایا گیا ہے غربت میں اصافہ ہوا ہے ۔پہلا قدم حکومت کو بڑھانا ہوگا ۔ اگر حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں تو وہ تبدیلی نہیں پاسکتے ۔خدارا عوام کا خیال کریں۔بھوک افلاس پھیل رہی ہے ۔غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے ۔سابق سینیٹر مشتاق احمدنے کہا کہ پاکستان کو چار بنیادی چیلنج درپیش ہیں، معاشی استحکام ،سیاسی استحکام جمہوریت سے آتاہے ۔پاکستان کی ساٹھ فیصد دولت دس فیصد لوگوں کے ہاتھ میں آچکی ہے ۔پاکستان میں غذائی قلت میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔

پختونوں کی نقل مکانی ،ملٹری آپریشن کسی صورت قبول نہیں۔سابق گورنر سندھ محمد زبیر عمر نے کہا کہ ہمارا ایجنڈا پاکستان کے لیے ہے ۔پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، عدلیہ آزاد ہوگی۔قائد اعظم کا وژن اور خواہشات ہمارا وژن ہے ۔ہمارا جھگڑاہے کہ 1973 کا آئین بحال کیا جائے ۔ایسا ماحول بننا چاہیے عوام کو یقین ہو کہ عوامی نمائندے حکومت میں ہیں ۔کراچی ملک کا معاشی حب ہے ۔قومی اسمبلی کی 22نشستیں چوری کی گئیں۔سب سے زیادہ دھاندلی کراچی میں ہوئی۔یہاں کی عوام کو محسوس ہوا ان کے نمائندوں کو عوام کی فکر ہے ۔ جب تک صاف شفاف الیکشن نہیں ہوتے یہ ظلم جاری رہے گا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ جیل میں قید قوم کے عظیم لیڈر عمران خان کی جانب سے تمام مہمانوں کو ویلکم کرتا ہوں۔اب ہم آئین کی بحالی کی تحریک چلا رہے ہیں۔عدلیہ غلام بن چکی ہے ۔جو سچ بولتا ہے اس کا سر کچل دیا جاتا ہے ۔پاکستان بار کونسل کے سینئر رکن بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ یہاں حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ اپوزیشن کون کرے گا۔عدلیہ کا پہلا کام عام شہریوں کے مسائل حل کرنا ہے ۔

ڈیڑھ سال ہوگیا ہے کوئی بہتری نہیں آئی ۔ججز کی بھی اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔کسی بھی ملک میں رول آف لاء لانا چاہتے ہیں تو کسی ملزم کو مخصوص وقت میں سزا ملے گی۔کسی بھی جمہوریت میں آزاد عدلیہ ہونی چاہیے ۔صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ عدلیہ کی حالت بری ہوگئی ہے ۔ستائیسویں ترمیم نے عدلیہ پر بڑا بحران پیدا کیا۔فنکشنل لیگ کے جنرل سیکرٹری سردار عبد الرحیم نے کہا کہ جعلی الیکشن کے ذریعے جعلی اسمبلیاں بنیں، جعلی اسمبلیوں کے ذریعے یہ ترامیم پاس ہوئیں، نہ الیکشن جعلی ہوتے نہ یہ ترامیم ہوتیں۔سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو کمزور کرنے میں برابر کی شریک ہیں۔ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا۔ پی ٹی آئی کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ عمران خان کی جدوجہد کسی ادارے کے خلاف نہیں ہے ۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماساجد ترین نے کہا کہ پاکستان بننے سے پہلے سندھ ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے ،گزشتہ ستتر سالوں میں عوام کو حقوق نہیں ملے .آئین نے آج تک کسی کو تحفظ نہیں دیا۔سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ کبھی ایسا نہیں ہوا جو موجودہ وقت میں ہورہا ہے ، آئین کی بالادستی کے بغیر ملک نہیں چل سکتا،عوامی رائے پر عمل کرنا ہوگا،عوام کیا چاہتے ہیں، اس پر عمل کرنا ہوگا۔

 

 

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں