’’کوئی مجھے آگ سے بچالے ‘‘بیٹے کا والدین کو فون
بھائی نے دوستوں کو بھی فون کرکے مدد مانگی، مگر کوئی انہیں بچا نہ سکا:ہارون دعا ہے اللہ کوئی معجزہ دکھا دے ، ہمارے 6افراد کی سانسیں باقی ہوں:بزرگ امدادی کام بروقت شروع ہو جاتا تو اتنا نقصان نہ ہوتا ،جانیں بھی بچ جاتیں:حسین ریسکیو عملہ اندر کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کررہا تھا:قراۃ العین مدثر
کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد ریسکیو اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے زین نامی دکاندار نے کہا ہے کہ ریسکیو کا کام شروع کے گھنٹوں میں ہی ہوتا ہے ، یہ 6 گھنٹے تک انتظار ہی کرتے رہے ، شروع میں آگ صرف دو داخلی دروازوں تک محدود تھی، یہ شروع میں اندر داخل ہو سکتے تھے لیکن انہوں نے دیر کی۔دوسری جانب دکانداروں نے لوگوں کے اندر پھنسے ہونے کے خدشے کا بھی اظہار کیا۔برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے ہارون اور ان کے بھائی ہیری نے بتایا کہ عمارت میں ان کے 3 بھائی موجود تھے ، جن میں سے 2باہر نکل آئے مگر تیسرا بھائی کل سے لاپتا ہے اور ابھی تک کوئی خبر نہیں مل سکی۔ ہارون کے مطابق پلازے کے اندر سے ان کے بھائی نے اپنی دکان سے والدین کو فون کیا کہ مجھے بچا لو، انہوں نے اپنے دوستوں کو بھی فون کر کے بچانے کی اپیل کی مگر کوئی انہیں بچا نہ سکا۔
اس عمارت میں محمد حسین کا بھتیجا محمد عارف برتنوں کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ محمد حسین نے بتایا کہ عارف کا فون صبح 11 بجے سے بند ہے ۔ اگر امدادی کام وقت پر شروع ہو جاتا تو شاید اتنا نقصان نہ ہوتا اور قیمتی جانوں کو بھی بچایا جا سکتا تھا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ تیسری بار صدر میں کسی عمارت کو آگ لگی ہے ، کب تک یہ سب ایسے ہوتا رہے گا اور کب تک ایسے لاشیں اٹھتی رہیں گی؟۔شہری قراۃ العین مدثر نے بتایا کہ میری دکانیں میری آنکھوں کے سامنے جل رہی تھیں۔زین نامی دکاندار نے بتایا کہ آگ ساڑھے 10 بجے گراؤنڈ فلور پر لگی اور اس وقت دکانداروں کے علاوہ سیکڑوں افراد پلازہ کے اندر موجود تھے ۔دکانداروں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو پلازہ سے باہر نکلنے میں مدد کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے اندر جانے کے بجائے باہر سے آگ بجھانے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے اندر موجود افراد کو بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔دکانیں آنکھوں کے سامنے جلتی رہیں، ہم سامان بھی نہیں نکال سکے ، بہت سارے لوگ اب بھی اندر موجود ہیں، میرے کئی دوست ہیں جن سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ان کی گل پلازہ میں بیگز کی تین دکانیں ہیں، جو خاکستر ہو گئی ہیں۔سفیان نامی دکاندار نے بتایا کہ پلازہ کے گرنے والے حصے میں ان کی جیولری کی دکان تھی۔ان کے بہنوئی اور ایک سیلزمین آگ لگنے کے وقت دکان پر موجود تھے ، جن کا تاحال کچھ پتا نہیں چل سکا ہے ۔
جائے حادثہ پر ایک بزرگ اپنی بھانجی، ان کی تین بیٹیوں، نواسی اور بیٹے سے متعلق جاننے کے لیے پلازے کے باہر موجود تھے ،ان کا کہنا تھا یہ لوگ شادی کی خریداری کے سلسلے میں گل پلازہ آئے تھے ،ہماری دعا ہے اللہ تعالیٰ کوئی معجزہ دکھا دے اور ان سب کی سانسیں باقی ہوں، سب خاندان والے پریشان ہیں، ایک ہی خاندان کے 6 افراد اپنے گھر تالا لگا کر آئے تھے ، اب اس گھر کا تالا کون کھولے گا، یہ اللہ ہی جانتا ہے ۔گل پلازہ کے سابق سیکرٹری جنرل عارف قادری نے بتایا کہ ہم نے کراچی میں بڑی بڑی آگ لگتی دیکھی ہیں لیکن یہ آگ کچھ الگ ہی قسم کی تھی۔ جب آگ لگی اس وقت 70 فیصد دکانیں کھلی تھیں کیونکہ ہفتہ کو ویک اینڈ کی وجہ سے گاہک زیادہ ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا گراؤنڈ فلور سے تو لوگ باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے لیکن جب آگ اس سے اوپر والی منزل پر پہنچی تو وہاں موجود دکاندار اور گاہک وقت پر باہر نہیں نکل سکے اور وہیں اموات ہوئی ہیں۔گراؤنڈ فلور پر 13 داخلی دروازے تھے ، یہی وجہ ہے لوگ یہاں سے فوری طور پر باہر نکل گئے ۔اسی طرح ہر فلور پر آگ بجھانے والے سلنڈر موجود تھے ،دکانداروں نے ان سے آگ بجھانے کی کوشش بھی کی لیکن آگ اتنی شدید تھی کہ یہ کام نہیں آ سکے ۔کاسمیٹکس، کمبل اور گارمنٹس کی دکانوں کی وجہ سے آگ نے تیزی سے پلازہ کو اپنی لپیٹ میں لیا۔