اپوزیشن لیڈر کے حکومت سے مذاکرات کیلئے 6 نکات
قیدی رہائی ، لاپتہ افراد بازیاب، 8فروری الیکشن کی تحقیقات ،قومی امن سر فہرست اپوزیشن لیڈر کی پہلی تقریر سے سیاسی کشیدگی میں کمی کے امکانات روشن ہوگئے
اسلام آباد(سہیل خان )قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے حکومت سے مذاکرات کے لئے 6نکات حکومت کے سامنے رکھ دئیے ۔اپوزیشن لیڈر کے خیرمقدمی بیانات سے سیاسی کشیدگی میں کمی کے امکانات روشن ہوگئے ۔حکومت نے اپوزیشن لیڈر کے تعاون کے اعلان کو سسٹم کے لئے خیر سگالی کا پیغام قرار دے دیا ۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کراچی سے عام فلائٹ میں ہنگامی طور پر اسلام آباد پہنچے ۔کہیں کوئی پروٹوکول نہ ملا، محمود اچکزئی ایوان میں بیرسٹر گوہر خان کا ہاتھ پکڑ ے داخل ہوئے ۔
وفاقی وزیرپارلیمانی امورطارق فضل نے حکومت کی طرف سے استقبال کیا ۔ ساتھی اپوزیشن ارکان نے نئے اپوزیشن لیڈر کو سنہری قبائلی پگڑی پہنائی اور گروپ فوٹو بھی بنوایا ۔ایوان کا ماحول خوشگوار رہا ۔ سپیکر سردار ایاز صادق کے دورہ چین کے باعث اجلاس کی صدارت ڈپٹی سپیکر مصطفی شاہ نے کی۔6 نکات سے مذاکرات مشروط کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے اعتماد کی بحالی کے لئے بزرگ مرد وخواتین سیاسی قیدیوں کی رہائی کی تجاویز پیش کردیں۔8فروری کے انتخابات کے نتائج کی تحقیقات ،مبینہ مینڈیٹ کی واپسی ،قومی امن، لاپتہ افراد کی بازیابی، پارلیمان میں داخلہ خارجہ دفاعی پالیسیوں کو اپنے نکات میں سر فہرست رکھا ۔اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی جب ایوان پہنچے تو طارق فضل خطاب کر رہے تھے ،وہ تقریر روک کر ملنے کیلئے ان کی نشست پر پہنچ گئے ۔