سینیٹ :جادو ،ٹونا کرنے پر 7 سال تک قید، 10 لاکھ جرمانہ ، بل منظور
چیئر مین رولنگ دیں سب برابر، کوئی بد مست ہاتھی نہیں:پلوشہ کی علیم پر تنقید ،کئی بلزمنظور
اسلام آباد (وقائع نگار)سینیٹ نے جادو ٹونا کی روک تھام سمیت کئی بلوں کی منظوری دے دی۔چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی زیرِ صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں قانون سازی کے عمل کے تحت متعدد اہم بلز پیش کیے گئے جبکہ کئی بلز کی منظوری بھی دی گئی ۔ ایوان نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا جس کے تحت جادو ٹونا کرنے یا اس کی تشہیر کرنے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔نئی ترمیم کے تحت، تعزیرات پاکستان میں دفعہ 297 الف شامل کی گئی ہے ۔ قانون کے مطابق جو شخص جادو ٹونا کرے یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے جبکہ 10 لاکھ روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے ۔
ایوان بالا نے انسداد سمگلنگ تارکینِ وطن ترمیمی بل 2024، صوبائی موٹر گاڑیاں ترمیمی بل 2025 ، مجموعہ تعزیراتِ پاکستان ترمیمی بل 2025، فوجداری قوانین ترمیمی بل 2024 ، ذہنی صحت ترمیمی بل 2025 اور وفاقی نصاب ونصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیے ۔ مسلم فیملی لاز ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ انتخابات ترمیمی بل 2026 ڈاکٹر زرقا سہروردی نے ایوان بالا میں پیش کیا تاہم حکومت کی جانب سے بل کی مخالفت کی گئی جسے متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔ دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈی نیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026 ،انضباط ورچوئل اثاثہ جات بل بھی کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔ علاوہ ازیں سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدہ اطیب نے کہا کہ اتنے بڑے مالز بنانے کی اجازت دی جاتی ہے اور لوازمات پورے نہیں کیے جاتے ۔ کراچی میں پلازے میں آگ لگی، کئی لوگ لاپتا ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو بہت ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پلازے میں ایمرجنسی گیٹ نہیں تھے ۔ حفاظتی انتظامات نہیں تھے ، کھڑکی کی جگہ بند کر دی گئی، آگ لگی اور فائر بریگیڈ تاخیر سے پہنچی، ایوان صدر میں بیٹھ کر سندھ پر پریزنٹیشن دی جاسکتی ہے ۔ نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ کراچی میں بہت دلخراش واقعہ ہوا ہے ،جانوں کا تو کوئی ازالہ ہو ہی نہیں سکتا،گل پلازہ کی سیفٹی کے حوالے سے ایڈمنسٹریشن سے بھی پوچھنا چاہیے ،میں کسی پر انگلیاں نہیں اٹھا رہی ، یہ بہت بڑا سانحہ ہے ۔ وزیر اعلٰی سندھ کی طرف سے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان بھی کیا گیا۔علاو ہ ازیں سینیٹر پلوشہ خان نے کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزیر مواصلات علیم خان سے تلخ کلامی کا معاملہ سینیٹ میں اٹھادیا۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ کوئی منصوبہ بندی کے تحت چیزیں نہیں ہوتی۔جو ہوا وہ ٹھیک نہیں ہوا اس پر بہت افسوس ہے ۔
پلوشہ خان نے کہا ہے کہ ایک وزیر صاحب کو مجھ میں بہت انٹرسٹ ہے ۔ایک وزیر نے میرے خلاف گندی زبان استعمال کی ،پورے پاکستان نے دیکھا۔ ہماری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے ۔کیا حیثیت ہماری اگر ہم سوال بھی نہ کر سکیں۔این ایچ اے کی کرپشن کی کہانیاں آئی ایم ایف کی رپورٹس میں چھپی ہیں۔ میں عورت ہونے کی آڑ میں اتنا نہیں چھپی۔کیا ہم ڈر جائیں سوال نہ کریں۔میں نے آپ کو ایک تحریک استحقاق دی ہے ۔ان کی گردن میں سریے ٹوٹے ۔سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ پلوشہ نے جو کہا وہ بہت افسوس ناک ہے ۔ایسا کمیٹیوں میں نہیں ہونا چاہیے ۔ ہر ممبر کا حق ہے کہ وہ سوال کرے اور جواب پوچھے ۔ کبھی بھی ذاتیات پر بات نہیں آنی چاہیے ۔میں نے علیم خان سے رابطہ کیا کہ آپ معافی مانگ لیں۔ پلوشہ خان نے کہا کہ کیا بد مست ہاتھی کسی کی بھی ذات پرچڑھ دوڑیں گے ۔
وزیر اعظم پاکستان سے اس فورم کے ذریعے کہتی ہوں اس کا نوٹس لیں۔چیئر مین سینیٹ سے درخواست ہے وہ رولنگ جاری کریں۔رولنگ دی جائے کہ کوئی بدمست ہاتھی نہیں یہاں سب برابر ہیں۔میں حکومت پاکستان سے تنخواہ لیتی ہوں کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی ملازم نہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹر پلوشہ خان کے معاملہ پر ایوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جو مسئلہ ہوا ہے وہ سب کے سامنے ہوا۔میری اس معاملہ پر علیم خان سے بھی بات ہوئی۔ اس طرح کے واقعات بالکل نہیں ہونے چاہئیں۔علیم خان ملک سے باہر ہیں انہوں نے بتایا کہ 25 جنوری کو آئیں گے ۔میں نے ان سے درخواست کی ہے کہ وہ اس فورم پر معافی مانگیں۔
سینیٹر ایمل ولی نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کا نمائندہ سرعام آپریشن کے خلاف بات کر رہا ہے ۔ سینیٹ میں کوئی بھی بات نہیں کر رہا۔ جو خواتین افغانستان سے آئی ہیں وہ ویزے پر آئی ہیں۔ وہ اگر واپس جائیں گی تو انہیں ذبح کر دیا جائے گا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آپ تقریر کریں مگر کسی خاتون کا یا دوسروں کو بے عزت نہ کریں۔ آپ پوائنٹ آف آرڈر پر بول رہے ہیں۔ایمل ولی نے کہا کہ آپ افغان خواتین کے ویزوں میں توسیع نہیں کر رہے تاکہ وہ واپس جائیں اور انہیں ذبح کیا جائے ۔چیئرمین سینیٹ نے افغان خواتین کا معاملہ متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ سینیٹر دوست محمد نے کورم کی نشاندہی کی جس پر سینیٹ اجلاس آج صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔