پاک افغان بارڈر 100روز سے بند، اربوں کا نقصان
پاکستانی تاجروں کو168اورافغان تاجروں کو 100ارب روپے کا نقصان ہوا افغانستان سے پشاورمریضوں کی آمد بھی کم ،ہوائی سفر میں اضافہ دیکھنے میں آیا
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان اور افغانستان کے مابین تمام سرحدوں کی بندش کے 100دن پورے ہوگئے ،اس وجہ سے دونوں ممالک کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی کی وجہ سے گزشتہ سال 13 اکتوبر کو طورخم، چمن سمیت تمام بارڈرز بند کردئیے گئے ہیں اور اب صرف پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان جانے کی اجازت ہے ۔اس بندش سے دونوں ممالک کے مختلف شعبے متاثر ہورہے ہیں جس میں سرِ فہرست معاشی شعبہ ہے اور دو طرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ میڈیکل ٹورازم کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔
پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ تجارت کا حجم تقریباً ایک ارب ڈالر ہے ، تاہم سرحدوں کی بندش سے تجارت شدید متاثر ہوئی ہے ۔سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کے مطابق گزشتہ تین مہینوں میں پاکستان کو بارڈرز کی بندش سے 168 ارب روپے سے زیادہ جبکہ افغانستان کو 100 ارب روپے سے زائد نقصان پہنچا ۔اسی طرح پاکستان کی جانب سے براستہ افغانستان وسطی ایشیا کے ممالک تک بھی سامان سپلائی کیا جاتا ہے اور سرحدوں کی بندش سے وہ تجارت بھی متاثر ہے۔ پاکستان کا وسطی ایشیا ممالک کے ساتھ تجارت کا سالانہ حجم تقریباً 900 ملین ڈالر ہے اور اسی حساب سے گزشتہ تین مہینوں میں پاکستان کو 225 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔
افغانستان کی انڈیا کو برآمدات پاکستان کے واہگہ بارڈر کے ذریعے کی جاتی تھیں اور رپورٹ کے مطابق افغانستان کو اسی روٹ کی بندش سے 75 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ افغانستان سے بڑی تعداد میں مریض پاکستان اور بالخصوص پشاور کے ہسپتالوں میں علاج معالجے کیلئے آتے ہیں لیکن اس میں اب کمی دیکھی گئی ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین زمینی راستے بند ہونے کے بعد ہوائی سفر میں اضافہ دیکھا گیا اور افغانستان کے طلوع نیوز کے مطابق ٹکٹ بک کرنے کیلئے 20 دن تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔پاکستان اور کابل کے درمیان آریانہ ایئرلائن اور کام ایئر کی پروازیں چلتی ہیں ،دسمبر میں 2600 سے زائد مسافروں نے مختلف پروازوں کے ذریعے اسلام آباد اور کابل کے درمیان سفر کیا ۔