ٹیکس ایئر 18 ماہ کا ؟واپسی درخواست کیوں نہ دی : آئینی عدالت

 ٹیکس ایئر 18 ماہ کا ؟واپسی درخواست کیوں نہ دی : آئینی عدالت

بینکوں کو چور قرار دینے سے ساکھ ،ایف بی آر کو جواب دینا ہوگا:وکیل کااعتراض

اسلام آباد(کورٹ رپورٹر)وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی ، مختلف کمپنیوں کے وکلاء نے اپنے دلائل مکمل کرلیے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سپر ٹیکس کے نفاذ، اس کی مدت اور مختلف سیکٹرز پر شرح کے حوالے سے ابہام موجود ہے۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سپر ٹیکس سے متعلق دو ہزار سے زائد درخواستوں پرسماعت کی، مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس کب سے لاگو ہوگا اور کن سیکٹرز پر اس کی شرح کیا ہوگی۔

اس حوالے سے واضح ابہام ہے جبکہ فنانس ایکٹ 2023 کے تحت ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 4 سی کا اطلاق 2022 سے قرار دیا گیا ہے ، انہوں نے بتایا کہ 2022 تک بینکوں پر سپر ٹیکس کی شرح 4 فیصد تھی جو 2023 کے فنانس بل کے بعد 10 فیصد کر دی گئی، فروغ نسیم نے ایف بی آر کے موقف پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کو چور قرار دینے سے ان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور ایف بی آر کو عدالت میں جواب دینا ہوگا، انہوں نے کہا ایف بی آر کی اس نوعیت کی باتیں قابل قبول نہیں، عدالت کو بتایا گیا کہ مجموعی طور پر 150 وکلاء میں سے 100 سے زائد وکلاء کے دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔

انٹرنیٹ کمپنیوں کے وکیل عدنان حیدر رندھاوا نے موقف اپنایا کہ فنانس بل 2022 سے پہلے 18 ماہ کے لیے سپر ٹیکس ادا کیا گیا، جس پر چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس ایئر تو 12 ماہ کا ہوتا ہے ، 18 ماہ کا کیسے ہو سکتا؟، ایف بی آر کی وکیل عاصمہ حامد نے کہا اگر 18 ماہ کا ٹیکس دیا گیا ہے تو اضافی ٹیکس کی واپسی کی درخواست کیوں نہیں دی گئی، انہوں نے موقف اختیار کیا کہ تمام ٹیکس 12 ماہ کی مدت پر لاگو ہوتے ہیں جبکہ عدنان حیدر رندھاوا نے کہا کہ سیکشن 4 سی یکم جولائی 2022 سے لاگو ہوتا ہے اور یکم جنوری 2021 سے سپیشل ٹیکس دیا جا رہا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ان سے سپر ٹیکس 18 ماہ پہلے سے وصول کیا گیا، فوجی فرٹیلائزرز کے وکیل جمال احمد سکھیرا آج دلائل کا آغاز کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں