افغانستان سے دہشتگردوں کو لاکربسا نافاش غلطی:خیبرپختونخوا کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے 800ارب دیئے،صوبے میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہوچکا:شہباز شریف
سب جانتے ہیں سوات سے سینکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا،سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے ،دہشتگردی کا قلع قمع کرینگے شہداکی قربانیوں کا جتنااحترام کیا جائے کم ہے ،چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا،معرکہ حق میں فتح کے بعددنیا میں گرین پاسپورٹ کی عزت بڑھی :قومی ورکشاپ سے خطاب
اسلام آباد(نامہ نگار)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردوں کو لا کر بسانے کا فیصلہ فاش غلطی تھی، ملک میں دہشت گردی بڑھنے کی وجہ یہی ہے ، سب جانتے ہیں سوات سے سینکڑوں دہشتگردوں کو کس نے رہا کیا، دشمنوں کے ساتھ آواز ملاکر پاکستان کیخلاف زہر اگلا جاتا ہے ۔خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے 800ارب روپے دئیے ،صوبے میں پائیدارامن کا قیام ناگزیر ہوچکا، کچھ صوبوں نے این ایف سی میں ملنے والے وسائل سے فائدہ اٹھا کر بھرپور ترقی کی لیکن خیبرپختونخوا میں یہ نظر نہیں آتی،چاروں صوبوں کی ترقی سے پاکستان آگے بڑھے گا ۔وزیراعظم نے قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا کے شرکا سے خطاب میں جھوٹ اور پراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنو ں میں زہر گھولنے کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر شہداء کی قربانیوں کی توہین کرکے سرحد پاردشمن کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے ، دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے تک قوم چین سے نہیں بیٹھے گی،افغانستان کی عبوری حکومت نے ہماری ایک نہیں سنی،پھر انہیں سبق سکھایا، اب انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا ہے یا نہیں۔
شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک صوبہ قراردیتے ہوئے خیبرپختونخوا کے عوام کی غیرت اور جرأت و بہادری کو سراہا اور کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں ۔40 لاکھ افغان پنا ہ گزین ہجرت کرکے آئے تو خیبرپختونخوا اور پاکستان کے عوام نے ان کی مہمان نوازی ، میزبانی اور خاطر داری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ،یہ بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمار ا فرض تھا لیکن اس کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر آیا اور ملک بھرمیں دہشت گردی نے سر اٹھایا جس میں ہزاروں بے گناہ شہید ہوئے ، خیبرپختونخوا اس جنگ میں فرنٹ لائن رہا ہے جہاں فورسز اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں جن کے نتیجے میں 2018 میں دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا ، سانحہ اے پی ایس کے بعد سیاسی حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں لیکن اس ناسور نے 2018 کے بعد پھر سر کیوں اٹھایا؟،یہ چبھتا ہوا سوال ہے جس کا جواب سب کو معلوم ہے ،یہ فاش غلطی تھی، سوات سے سینکڑوں دہشت گردوں کو رہا اور افغانستان سے ہزاروں کو واپس لا کر بسایا گیا، اس وجہ سے دہشت گردی دوبارہ شروع ہوئی جس نے ملک کی ترقی اور خوشحالی پر وار کیا،شہداکی قربانیوں کا جتنااحترام کیا جائے کم ہے لیکن سوشل میڈیا پر زہر اگلا جاتا ہے اور شہداء کی توہین کی ناپاک کوشش کرکے سرحد پار دشمنوں کی آواز سے آواز ملائی جاتی ہے ،اب وقت ہے کہ ہم اس صورتحال اور طرزعمل کا جائزہ لیں۔
وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2010 میں این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کی اور تمام صوبوں نے مل کر اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے مقابلے کے لئے دینے کا فیصلہ کیا، 15 برسوں میں 800 ارب روپے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے خیبرپختونخوا کو د ئیے گئے اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ، یہ کوئی احسان نہیں ہے اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور باقی نہیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ، حکومت کا ایمان ہے کہ چاروں صوبے ترقی کریں گے تو پاکستان ترقی کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے 53 بے گناہ پاکستانیوں کو شہید کیا تو پاکستان نے سخت جوابی کارروائی کی اور دشمن کے 7 لڑاکا طیارے مار گرائے ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو وہ سبق سکھایا جس کی حالیہ تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور دشمن کو ہمیشہ یہ سبق یاد رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد گرین پاسپورٹ کو اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،ملک میں معاشی استحکام آگیا ہے اب پائیدار ترقی کے لئے اقدامات کررہے ہیں ، وہ وقت دور نہیں جب محنت، امانت ، دیانت اور ٹیم ورک کے ذریعے پاکستان کو اقوام عالم میں اس کا کھویا ہوا مقام دلائیں گے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاق اور خیبرپختونخوا میں سرد جنگ کا تاثر درست نہیں ، میں نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ بننے کے فوری بعد فون کرکے مبارکباد دی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا لیکن انہوں نے مثبت جواب نہیں دیا ، چترال میں دانش سکول کا سنگ بنیادرکھنے کے موقع پر میں نے انہیں پھر مل بیٹھ کر بات کرنے کی دعوت دی لیکن بدقسمتی سے جھوٹ اورپراپیگنڈے کی بنیاد پر نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سمیت چاروں صوبوں کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کررہے ہیں ، اس کے لئے مختلف پروگرام شروع کئے گئے ہیں ۔ چند روز قبل وزیراعظم صحت پروگرام کا دوبارہ اجراء کیا گیا ہے ، یہ پروگرام 2016ء میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے شروع کیا تھا، اس پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیرکے عوام کے مفت علاج کے لئے 40 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے ۔