سانحہ گل پلازہ:حکومتی اتحادیوں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم میں جھڑپ،لواحقین اپنے پیاروں کیلئے تڑپتے رہے
18ویں ترمیم ڈھکوسلا،مقامی حکومتیں ناگزیر:خواجہ آصف،نئے یونٹ بنانا تقسیم نہیں:فاروق ستار،موجودہ حال تک لانیوالی جماعت اسلامی اور متحدہ :شہلا ، قادر پٹیل 28اموات ،20ناقابل شناخت،مزیدلاشیں ملنے کاخدشہ،عمارت کا 40 فیصد حصہ گر چکا،75 افرادکے لاپتا ہونے کی تصدیق، ڈی این اے کیلئے 48 لواحقین کے نمونے جمع
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نامہ نگار،مانیٹر نگ ڈیسک)سانحہ گل پلازہ پر قومی اسمبلی میں حکومت کی اتحادی جماعتیں آمنے سامنے آگئیں،متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاکستان پیپلزپارٹی میں جھڑپ ہوئی، دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کردی،فاروق ستار نے سندھ حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا جبکہ شہلا رضا اور قادر پٹیل نے ایم کیو ایم پر الزامات عائد کیے ۔وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم ڈھکوسلا ثابت ہوئی ہے ، بلدیاتی نظام بنا، نہ پولیس سسٹم ،ہمیں بلدیاتی انتخابات کا طے شدہ درست نظام بنانا ہوگا،عوام کو بااختیار بنانے کیلئے مقامی حکومتوں کا نظام لانا پڑے گا ۔محلے میں نمائندگی نہیں ہوگی تو وزارت دفاع کے فائر بریگیڈ آکر آگ پر قابو پائیں گے ۔ ایم کیو ایم کے فاروق ستار نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ 22 گھنٹے بعد موقع پر پہنچے ،اس شہر کے بنیادی مسائل کب اور کون حل کرے گا؟، 14 سال تک پانی کا منصوبہ جاگیرداروں وڈیروں کے ہاتھ میں رہا۔ کراچی کے مسئلے پر صرف بات ہی نہ کی جائے بلکہ انہیں حل بھی کیا جائے ،نئے یونٹ بنانا ملک کی تقسیم نہیں ہے ۔
پیپلز پارٹی کی شہلا رضا اور قادر پٹیل نے کہا کہ کراچی کو موجودہ حال تک لانیوالی جماعت اسلامی اور متحدہ ہیں ، لاہور میں حفیظ سینٹرمیں تین مرتبہ آگ لگی لیکن اس پر کوئی سیاست نہ کی گئی۔عجیب بات ہے ایک واقعہ کو بنیاد بناکرآپ 18ویں ترمیم تک چلے گئے ،شہلا رضا نے کہا کہ میں مانتی ہوں بلدیاتی نظام ہونا چاہیے ، بلدیاتی نظام کی آڑ میں آج اندر کی کیا کیا باتیں سامنے آئیں، یہ کون سا موقع ہے کہ آپ آج اپنے دل کی بھڑاس نکالیں، جو بھی حسرتیں ہیں وہ اپنے طریقے سے بتائیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کراچی میں آتشزدگی اور حادثات جیسے واقعات کی روک تھام اور 25کروڑ عوام کو با اختیار بنانے کے لئے لاہور،کراچی ، پشاور اور کوئٹہ میں بااختیار اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام ناگزیر ہے ، آمریت کے ادوار میں بھی مقامی حکومتیں چلتی رہیں، چین کے صدر بھی مقامی حکومتوں سے ہوتے ہوئے حکومت تک پہنچے ہیں۔ جولوگ باہربیٹھ کر گالم گلوچ کرتے ہیں سب سے پہلے ان کی زبان بندی ضروری ہے ، باہربیٹھ کر جولوگ پاکستان کیخلاف بولتے ہیں یہ ان کی مرضی سے بول رہے ہیں، باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت باہر سے لوگ بیٹھ کر لوگوں کو گالیاں دے رہے ہیں۔ حکومت پی ٹی آئی سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے مگر یہ چار پانچ زبانیں بولتے ہیں ہم کس پر اعتبار کریں، خواجہ آصف نے کہا کہ ہم سیاسی حکومتیں حیلے بہانوں سے بلدیاتی نظام سے بھاگتی ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ آئین میں ترمیم کر کے یکساں نصاب اور فعال مقامی حکومتوں کا نظام لایا جائے ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت تحریک انصاف سے مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن میں نہیں سمجھتا کہ پی ٹی آئی مذاکرات میں سنجیدہ ہے ،پی ٹی آئی والے فرینچ میں بات کرتے ہیں، انگلش،پنجابی اور اردو میں بات کرتے ہیں، ہم ان کی کون سی زبان سمجھیں، ہمیں بتائیں ہم ان کی کون سی زبان پر اعتبار کریں، خیبرپختونخواحکومت الگ اوراسمبلی میں بیٹھنے والے الگ زبان بول رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے کہا پی ٹی آئی بیک ٹریک کرنے کے لیے اور دو نمبری کرنے کے لیے اپنی سپیس رکھنا چاہتی ہے ، یہ صرف پی ٹی آئی کی نیت کا فتور ہے ، پی ٹی آئی کی نیت ہو تو مذاکرات بھی ہوسکتے ہیں اور ان کا رزلٹ بھی نکل سکتاہے ، تحریک انصاف کی بدنیتی ختم نہیں ہو رہی، یہ تاش کی بازی لگی ہوئی ہے اور سارے مل کر کھیل رہے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں ایک اکثریتی پارٹی نے اپنا لیڈر آف اپوزیشن کیوں نہیں بنایا؟ ،محمودخان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایاگیا ہے ،وہ بھائی ہے اپنا اور میں محمود اچکزئی کا بڑا احترام کرتا ہوں، میرا ان کی سیاست سے اختلاف ضرور ہوسکتا ہے لیکن میرا ان سے بڑا برادرانہ تعلق ہے ، بہت اچھی بات ہے کہ وہ اپوزیشن لیڈر بنے ہیں، میں ان کو ویلکم کرتا ہوں۔
خواجہ آصف کی تقریر کے دوران پی ٹی آئی ارکان نے شور شرابہ کیا ،جس پر خواجہ آصف نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اپنی پارٹی کو سنبھالیں۔انہوں نے کہا تمہارا لیڈر کہتا تھا رلا ئوں گا بتائیں آج کون رورہا ہے ، تم روتے ہی رہو گے ۔ ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ کی آتشزدگی قومی سانحہ ہے ۔ یہ قومی المیہ ہے اور اس کو قومی المیہ ڈیکلیئر کر کے رسپانس دینا چاہیے اور چاروں صوبوں میں اس پر بحث ہونی چاہیے ۔آخر کب وفاق اور صوبائی حکومتوں میں کراچی ترجیح حاصل کرے گا۔ ایم کیو ایم کے امین الحق نے گل پلازہ سانحہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا۔ فاروق ستار نے کہا کہ کراچی شہر 4 کروڑ آبادی کا شہر ہے ، صدرآصف علی زرداری اپنی تقریر میں کہہ چکے ہیں، مگر کراچی کی آبادی کو دو کروڑ ظاہر کیا جاتا ہے ، 4 کروڑ کی آبادی کے لیے محض 100 فائربریگیڈ ہیں جن میں سے 50 خراب ہیں، پورے شہر کے لیے محض 25 فائر بریگیڈ سٹیشنز ہیں۔ 50 فیصد سے زائد تجارتی مراکز ایسے ہیں جہاں فائربریگیڈ یا ایمرجنسی کے آلات نہیں، چین سے اینٹی فائر غبارے منگوائے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہر شہری کے دل میں آگ لگی ہے ، آئیے مل کر کراچی کو زہران ممدانی کا نیویارک یا صادق خان کا لندن بنائیں، آئیے 140 اے کو 28 ویں ترمیم کاحصہ بنائیں اور اس کو سیاست کی نذر نہ کریں ،نئے یونٹ بنانا تقسیم نہیں۔پیپلز پارٹی کی شہلا رضا نے کہا کہ گل پلازہ واقعہ انتہائی دردناک ہے ، میں اس پر سیاست نہیں کرنا چاہتی اور کسی اور کو بھی اس پر گھٹیا سیاست نہیں کرنی چاہیے ۔شہلا رضا نے کہا کہ گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے بند تھے ۔ نیوزی لینڈ میں آگ لگی تو 40 افراد جاں بحق ہو گئے تھے ، لاہور میں حفیظ سینٹر میں تین مرتبہ آگ لگی لیکن اس پر کوئی سیاست نہیں کی گئی، یہ آگ ہے ، ہوجاتا ہے ۔ یہ عجیب ہے ایک واقعہ کو بنیاد بناکرآپ 18ویں ترمیم اوربنیادی تعلیم تک چلے گئے ، سندھ ایک ملک تھا جسے قبل از مسیح دیکھا جانا چاہیے ۔ پیپلز پارٹی کے عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ 35سال جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے کراچی پر راج کیا،کراچی کو اس حال تک پہنچانے والی یہ دو جماعتیں ہیں، جماعت اسلامی صدقہ،فطرانہ، چندہ،کھالیں بھی لیتی ہے اور سارے پیسے کراچی میں بینرز لگا کر خرچ کردیتی ہے ۔ ایم کیو ایم کے مطالبہ پر قومی اسمبلی میں سانحہ کراچی پر بات کرنے کے لئے پرائیویٹ ممبر ڈے کے ایجنڈے پر کارروائی آج(بدھ) تک ملتوی کر دی گئی ۔
کراچی (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، رائٹرز) گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد چوتھے روز بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا، لواحقین اپنے پیاروں کیلئے تڑپتے رہے ۔ گراؤنڈفلور اورپہلی منزل کلیئر کرنے کے بعد امدادی ٹیموں نے دوسری اور تیسری منزل پر سرچنگ کا عمل شروع کر دیا ۔ایم اے جناح روڈ پر واقع شاپنگ مال میں ہفتے کی رات لگنے والی آگ کے سبب عمارت کا 40 فیصد حصہ منہدم ہوگیا،پلازہ سے متصل بلڈنگ کے دو پلر ٹوٹ گئے ،عمارت کا باقی ڈھانچہ کسی بھی وقت گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا،ریسکیو اہلکاروں کودھوئیں اور تپش کے باعث امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہاہے ۔ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک دم گھٹنے اور جھلس کر جاں بحق ہونے والے 28 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ نے بتایا کہ 8 افراد کی شناخت ہوگئی ہے جبکہ 20 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں،ان کے ڈی این اے سیمپل لے لئے گئے ہیں،جبکہ مرنے والوں میں کاشف، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی ،تنویر اور خاتون مصباح شامل ہیں۔
ان کے مطابق ایک لاش کی شناخت شناختی کارڈ جبکہ خاتون مصباح کو گلے میں موجود لاکٹ سے پہچانا گیا۔ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اب تک 48 لواحقین کے نمونے جمع کیے گئے ہیں جنہیں سندھ فارنزک ڈی این اے لیبارٹری، آئی سی سی بی ایس بھیجا جا رہا ہے ،جیسے جیسے لاشیں موصول ہوتی رہیں گی، کارروائی جاری رہے گی۔پولیس سرجن نے بتایا کہ 33 سالہ مصباح دختر عرفان کی میت ورثاء کے سپر د کی جائے گی، خاتون مصباح کی فیملی کے دیگر4 افراد بھی سانحہ گل پلازہ میں لاپتہ ہیں۔ریسکیو1122کے رضوان احمدکے مطابق مرنے والوں سمیت مجموعی طورپر84افرادلاپتہ رجسٹرڈکئے گئے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لاپتہ افراد کے جاں بحق ہونے کا خدشہ ہے اور امدادی کارکن ملبے میں لاشوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر جاوید نبی کھوسو کے مطابق لاپتہ افراد کی فہرست میں 83 نام شامل ہیں، بعض نام دو بار شامل کر لیے گئے اس لیے 75 افراد کے لاپتہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ۔ڈی سی کا مزیدکہنا تھا کہ بلڈنگ کا 40 فیصد حصہ گر چکا ہے ، ایس بی سی اے کے ماہرین نے معائنے کے بعد بتایا کہ دیگر حصے بھی انتہائی کمزور ہیں، تاجروں سے گزارش ہے کہ ہم سے تعاون کریں اور ریڈ زون سے دور رہیں۔
ان کے مطابق عمارت کے اندر داخل ہوکر دوبارہ سرچنگ کی جائے گی، ایس بی سی اے کی ٹیم ساتھ موجود ہے ، جو وقتاً فوقتاً ہمیں بتا رہی ہے کہ کس طرح آپریشن کرنا ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ منگل کی صبح اوپرکی منزلوں پر ریسکیو اہلکاروں کو بھیجا گیا، تفصیلی سروے کیا لیکن ہمیں کوئی لاش نہیں ملی، البتہ شک ہے کہ عمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی، وہاں راستہ بنا کر ٹیمیں بھیجیں گے ، اللہ کرے ہمیں راستہ مل جائے ۔ادھرمیئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر مزید ہیوی مشینری موقع پر پہنچا دی گئی، جبکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے عملے نے کرینز کے ذریعے مرحلہ وار گاڑیوں کو نیچے اتارنا شروع کر دیا۔انتظامیہ کے مطابق اب تک گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 32 گاڑیاں محفوظ طریقے سے نیچے اتار لی گئی ہیں۔ان میں 16 کاریں، 4 سوزوکی، 12 موٹر سائیکل اور 1 رکشہ شامل ہے ۔مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کیلئے رات گئے گل پلازہ پہنچے اورکہاکہ جب تک تمام لاپتہ افراد کا سراغ نہیں مل جاتا اور ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوتا، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے الرٹ رہیں گے ۔