مجرم کی دوسرے ضلع کی جیل میں منتقلی غیرقانونی:ہائیکورٹ
منشیات کے مجرم کو منڈی بہاؤالدین سے جہلم پھر میانوالی جیل منتقل کیا گیا
لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عبہر گل خان نے سزا یافتہ مجرم کو دوسرے ضلع کی جیل میں منتقل کرنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منشیات کے مجرم کو ڈسٹرکٹ جیل میانوالی سے واپس ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین منتقل کرنے کا حکم دے دیا ۔سزا یافتہ مجرم کی والدہ فاطمہ بی بی کی درخواست پر وکیل عرفان محمود رانجھا نے دلائل دیتے ہوئے بتایاکہ درخواست گزار کے بیٹے کو منشیات کے مقدمہ میں جنوری 2024 میں ایڈیشنل سیشن جج منڈی بہاؤالدین نے 10سال قید کی سزا سنائی جس پر مجرم کو ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین منتقل کر دیا گیا تاہم 8ماہ بعد اسے ڈسٹرکٹ جیل جہلم منتقل کردیا گیا جبکہ چھ ماہ بعد مجرم کو ڈسٹرکٹ جیل جہلم سے ڈسٹرکٹ جیل میانوالی منتقل کر دیا گیا ،کسی قیدی کو دوسری ڈسٹرکٹ کی جیل میں منتقل کرنا جیل رولز 1976 کی خلاف ورزی ہے ،جیل رولز کے مطابق کسی مجرم کو دوسری ڈسٹرکٹ کی جیل میں منتقل نہیں کیا جا سکتا دوسرے ضلع کی جیل میں قید ہونے سے مجرم کی والدہ سے ملاقات مشکل ہو گئی ہے ،نیلسن منڈیلا رولز کے تحت ہفتہ وار فیملی سے ملاقات ہونی چاہیے جو ممکن نہیں رہی۔ آئین کے آرٹیکل دس اے کے تحت مجرم سے مساوی سلوک کیا جانا ضروری ہے ،عدالت مجرم کو ڈسٹرکٹ جیل میانوالی سے ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہائوالدین منتقل کرنے کا حکم دے ۔