عمران سے ملاقات نہ ہو سکی ،پولیس سے تصادم ، 14کارکن گرفتار

عمران سے ملاقات نہ ہو سکی ،پولیس سے تصادم ، 14کارکن گرفتار

خواجہ کارپوریشن تک کا علاقہ دو گھنٹے تک پکڑ دھکڑ کے باعث ٹریفک کیلئے بند رہا

راولپنڈی(خبر نگار)اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کسی کی ملاقات نہ ہو سکی ۔ دھرنا شام کے بعد ختم ہو گیا ، اڈیالہ روڈ سے واپس ریلی کی صورت میں جاتے ہوئے  پولیس اور کارکنوں میں ٹکرائو ،پکڑ دھکڑ،تشدد، دکانیں بند کر ادی گئیں ۔ اڈیالہ روڈ کا خواجہ کارپوریشن تک کا علاقہ دو گھنٹے تک پولیس اور کارکنوں میں پکڑ دھکڑ کے باعث ٹریفک کے لئے وبال جان رہا ۔ 14 کارکنوں کو تحویل میں لے لیا گیا ۔ قبل ازیں دوپہر کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے آنے والے کارکنوں اورعلیمہ خانم سمیت انکی بہنوں کو پولیس نے ڈی ایچ اے ناکے پر روک لیا۔علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ ہمیں ملاقا ت نہیں بانی کی رہائی چاہئے ، علیمہ خان اور کارکنوں نے ناکہ پر قرآن خوانی کی، شام سات بجے ریلی کی صورت میں واپس روانہ ہو گئے ۔ شاہد خٹک شفقت ایاز و دیگر شامل تھے خواجہ کارپوریشن کے قریب ریلی کا استقبال کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ ، دکانیں بند کرادیں۔گاڑیوں میں سفر جاری رہا ،بہنوں کے جانے پر حالات معمول پر آگئے ۔ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ مخالفین کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں بہتر ہے صلح صفائی ہو لیکن حکومت ایک طرف ہاتھ ملائے دوسرے سے مکا مارے تو حالات بہتر نہیں ہوں گے ، فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطہ نہیں اگر ہوا تو چھپائیں گے نہیں۔

بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں ہمارا آئینی اور قانونی حق ہے ، ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت پر الزامات نہیں لگنے چاہئیں، حکومت خیبرپختونخوا کو بھی ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں، جس سے ان پر الزامات لگ جائیں اور جو لوگ الزامات لگاتے ہیں ان سے گزارش ہے ثبوت بھی لائیں۔چیئرمین پی ٹی آئی نے بتایا کہ 8 فروری کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں گے ۔پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈرز کا نو ٹیفکیشن آئینی فریضہ تھا کسی پر کوئی احسان نہیں۔ ملک میں آئین پامال، عدلیہ محکوم اور الیکشن بے معنی ہوچکے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی کو تنہائی میں رکھنے کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھائیں گے ۔ ترجمان خیبر پختونخوا شفیع جان نے کہا ہے کہ نئے الیکشن مینڈیٹ کی واپسی تک 8 فروری کی کال واپس نہیں لی جائے گی ، وزیر اعلی ٰخیبر پختونخوا کی سٹریٹ موو منٹ کے باعث ہمیں کامیابی ملی ،محموداچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر بنایا گیا وہ سلیکٹ نہیں الیکٹ ہوئے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں