برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں پر بھی انحصار کا فیصلہ

برآمدات بڑھانے کیلئے ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں پر بھی انحصار کا فیصلہ

بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز آف ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں زراعت، آئی ٹی، ایس ایم ایز اور چھوٹی صنعتوں کو نمائندگی دی جائیگی 3سال ٹاپ رہنے والے 4ایکسپورٹرز،چیئرمین پاکستان بزنس کونسل،صدرایف پی سی سی آئی اور4سیکرٹریزبھی بورڈمیں شامل

اسلام آباد (ذیشان یوسفزئی)پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کی برآمدات کا ٹیکسٹائل کے علاوہ دیگر شعبوں پر بھی انحصار بڑھایا جائے اور اس مقصد کے لیے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ (ای ڈی ایف)ترمیمی بل 2026 کو سینیٹ سے منظور کر لیا گیا ہے ۔ ترمیمی بل کے تحت بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز آف ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کو دوبارہ ڈیفائن کیا گیا ہے ۔بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز آف ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں زراعت، آئی ٹی، ایس ایم ایز اور چھوٹی صنعتوں کے نمائندوں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اوراب زراعت، ایس ایم ایز، آئی ٹی اور چھوٹی صنعتوں کے نمائندے بورڈ کا حصہ ہوں گے ۔

بورڈ میں نمائندگی ملنے سے ان چاروں شعبوں کی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ میں مدد ملے گی جبکہ ایکسپورٹ پروموشن کے لیے فنڈز بھی مختص کیے جائیں گے ۔ ترمیم کا مقصد پاکستان کی برآمدات کو آسان اور موثر بنانا ہے ۔بل کے تحت بورڈ آف ایڈمنسٹریٹرز کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور نجی شعبے کو مرکزی کردار دیا گیا ہے ،گزشتہ تین سال کی بنیاد پر ٹاپ چار ایکسپورٹرز کوبھی بورڈمیں شامل کیا جائیگا، اس کے علاوہ ایک نمایاں نان ٹیکسٹائل ایکسپورٹر بھی بورڈ کا حصہ ہوگا۔ دیگر شعبوں سے ایک ایسا ایکسپورٹر بھی بورڈ میں شامل ہوگا جو کم از کم 10 ملین ڈالر سالانہ برآمدات کرتا ہو۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)سے دو نمائندے بورڈ میں شامل ہوں گے ۔ چیئرمین پاکستان بزنس کونسل اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر بھی بورڈ کے رکن ہوں گے ۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ، وزارت تجارت، وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اور وزارت صنعت و پیداوار کے سیکرٹریز بھی بورڈ میں شامل ہوں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں