متنازعہ ٹویٹس کیس:ایمان اور ہادی کی ضمانت، حق دفاع بحال
اسلام آباد (رضوان قاضی)اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازعہ ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت بحال کرتے ہوئے حق دفاع بھی بحال کر دیا۔
ایمان مزاری اور ہادی علی عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس اعظم خان نے ہدایت کی کہ تین دن میں جرح مکمل کرلیں، وکیل کامران مرتضیٰ نے استدعاکی کہ ہفتے کا وقت دے دیں، جسٹس اعظم خان نے کہاکہ میں دیکھ لیتاہوں، آپ جائیں اور پرامن طریقے سے ٹرائل آگے بڑھائیں۔ بعدازاں عدالت نے دو صفحات کا تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قراردیتے ہوئے دونوں کی درخواستیں نمٹا دیں اور انہیں گواہوں پر جرح کیلئے چار دن کا وقت دینے کا حکم دیا، عدالت نے واضح کیا ایمان مزاری اور ہادی علی کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے ، اگر دونوں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور کیا جائے گا، عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ عدم پیشی کی صورت میں کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے ۔
ادھر ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف جولائی 2025 میں درج ایک مقدمہ سامنے آ گیا جس میں دونوں نے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں اسلام آبادہائیکورٹ میں دائر کر دیں، ہنگامی سماعت کیلئے پیش کرنے کی استدعا کی گئی تاہم چیف جسٹس کی عدم موجودگی کے باعث سماعت ممکن نہ ہو سکی جس کی تصدیق سیکرٹری ٹو چیف جسٹس مقصود احمد نے کی۔ صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار واجد گیلانی نے ایمان مزاری اور ہادی علی کو اپنے دفتر بلا کر حفاظتی یقین دہانی کرائی، دونوں رات گئے تک وہیں موجود رہے ، اس دوران پولیس کی بھاری نفری بھی ہائیکورٹ کے داخلی و خارجی راستوں پر موجود رہی۔ ادھر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے خلاف متنازعہ ٹویٹس کیس کی سماعت بغیر کارروائی آج تک ملتوی کر دی۔ دونوں ملزمان عدالت میں موجود نہیں تھے ، معاون وکیل کے مطابق ملزمان اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کر رہے ہیں اور ہائیکورٹ کا تحریری حکمنامہ عدالت کو تاحال موصول نہیں ہوا۔ عدالت نے نئی ایف آئی آر کی کاپی جمع کرانے کی ہدایت کی، ملزمان کو آج ساڑھے 8بجے پیش ہونے کا حکم دیا تاکہ کیس کی سماعت مکمل کی جا سکے ۔