اسد قیصر کی پختونخوامیں جلسے کی دعوت مرکز سے سیاسی تناؤ کی عکاس
ایوان زیریں کا اجلاس سیاسی کشمکش اور عدم برداشت کی تصویر بن کر سامنے آیا ڈپٹی سپیکر کی مائیک بند کرنے کی وارننگ برداشت کی گنجائش محدود ہونے کی علامت
اسلام آباد (سہیل خان ، اسلم لُڑکا)قومی اسمبلی کا حالیہ اجلاس محض قانون سازی کے بجائے سیاسی کشمکش اور عدم برداشت کی تصویر بن کر سامنے آیا۔ سابق سپیکر اسد قیصر کی جانب سے حکمران جماعت کو خیبر پختونخوا آ کر جلسہ کرنے کی دعوت اور پروٹوکول کی یقین دہانی دراصل مرکز اور صوبوں کے درمیان سیاسی تناؤ کی عکاس ہے جبکہ پنجاب میں مبینہ نگرانی کا ذکر سیاسی بیانیے کو مزید سخت بناتا دکھائی دیا۔ اسد قیصر نے حکمران جماعت کو خیبر پختونخواہ آکر جلسہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کو پروٹوکول بھی دیں گے جبکہ ہم پنجاب میں کسی شادی پر بھی جائیں تو ہماراپیچھاکیا جاتا ہے ۔اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی کو فلور نہ ملنے پر پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایوان کے اندر اظہارِ رائے کے طریقہ کار کو نمایاں کر دیا۔
قبائلی عوام کے ممکنہ احتجاج سے متعلق ان کا بیان حکومت پر دباؤ ڈالنے کی سیاسی حکمتِ عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاہم اس اندازِ گفتگو نے ایوان کے ماحول کو مزید کشیدہ کر دیا۔ڈپٹی سپیکر کی جانب سے نظم و ضبط برقرار رکھنے کی کوشش اور مائیک بند کرنے کی وارننگ اس بات کی علامت تھی کہ ایوان میں برداشت کی گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سکیورٹی آپریشنز پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور سابقہ حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جس سے بحث سیاسی الزام تراشی کی طرف چلی گئی۔بیرسٹر گوہر کا شور شرابے کے باعث بات نہ کر پانا اور اپوزیشن کے اندر قیادت کی ہدایات کو نظرانداز کیا جانا اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ مسئلہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا نہیں بلکہ اندرونی نظم و ضبط کا بھی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر کی موجودگی میں بھی ایوان میں بے ترتیبی نے یہ سوال پیدا کر دیا کہ کیا پارلیمان واقعی مؤثر مکالمے اور قانون سازی کی طرف بڑھ پا رہی ہے یا محض سیاسی محاذ آرائی تک محدود ہو کر رہ گئی ۔