امن بورڈ کا قیام، شہباز شریف کے بھی دستخط : وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی ڈیووس میں عالمی رہنمائوں سے ملاقاتیں، ٹرمپ کا مسکراتے ہوئے عاصم منیر کی جانب اشارہ
قطر، سعودی عرب، ترکیہ، ارجنٹائن، آرمینیا سمیت 20ممالک کے دستخط، غزہ میں جنگ ختم ہونیوالی،تعمیرنو کرینگے ،حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا، اقوام متحدہ کیساتھ کام جاری رکھوں گا:امریکی صدر شہباز شریف،فیلڈ مارشل عاصم منیر سے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکی و سعودی وزرا ئے خارجہ مارکو روبیو، شہزادہ فیصل کی ملاقاتیں، مسکراہٹوں کے تبادلے ،وزیراعظم برطانیہ پہنچ گئے
اسلام آباد،ڈیووس(خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر غزہ امن بورڈ کا قیام عمل میں لاتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم شہباز شریف سمیت 20عالمی رہنماؤ ں نے چارٹر پر دستخط کردئیے ، جس کے بعد چارٹر مکمل طور پر نافذالعمل ہوگیا۔ تقریب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک ہوئے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب کے دوران خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسکراہٹ کے ساتھ خیرمقدم کیا،ان خوشگوار لمحات کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔ چارٹر پر دستخط کرنے والے ممالک میں قطر، سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، ترکیہ، اردن،ارجنٹائن، آرمینیا، آذربائیجان، بلغاریہ، ہنگری، انڈونیشیا، قازقستان، ازبکستان، پاکستان، کوسوو،پیراگوئے ،منگولیاشامل ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مجوزہ عالمی فورم ‘بورڈ آف پیس’ کے قیام کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا میں نے 10ماہ میں 8جنگیں رکوائیں، پاکستان اور بھارت کی بھی جنگ رکوائی،دونوں جوہری طاقتیں ہیں، وزیراعظم شہبازشریف نے کہا میں نے کروڑوں لوگوں کی جانیں بچائیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اورایران،سربیااورکوسوو،تھائی لینڈ اورکولمبیا کے درمیان تنازع ختم کرایا، آج امریکا نے دنیا کو مزید محفوظ بنادیا ہے ، ہم نے ایران کی جوہری صلاحیت کا خاتمہ کیا، مصر اورایتھوپیا کے درمیان تنازع بھی ہم نے ہی حل کرایا۔انہوں نے کہا ایران دو ماہ میں جوہری طاقت بن سکتا تھا، ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار ہیں، ایران بات کرنا چاہتا ہے اور ہم بات کریں گے ۔جنگیں رکوانے کے بعد بہت سے ممالک کے سربراہان میرے دوست بنے ، نیٹو کو دفاعی بجٹ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے پر رضا مند کیا۔ گزشتہ سال کی نسبت آج دنیا مزید محفوظ اورپرامن ہے ، امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے ،وینزویلا کی نئی قیادت کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، شام کے صدر سے بات کی،شام پر عائد تمام پابندیاں ہٹائیں۔انہوں نے کہا مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کیلئے کوشاں ہیں، امریکی وزیر خارجہ کی کوششوں سے آج کی تقریب کا انعقاد ہوا، ہم نے ناممکن اور بڑے بڑے کام کئے ، امن کوششوں کی کامیابی کیلئے پرامید ہیں۔غزہ امن بورڈ میں بہت سے ممالک شامل ہونا چاہتے ہیں، غزہ امن بورڈ میں شمولیت پر تمام ممالک کا شکرگزار ہوں، یوکرین اور روس کی جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا رہے ہیں، روسی صدر پیوٹن سے بات کی ہے ۔
اقوام متحدہ و دیگر ممالک کے ساتھ کام جاری رکھوں گا، ہر کوئی بورڈ آف پیس کا حصہ بننا چاہتا ہے ، غزہ میں امن کے حوالے سے شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، غزہ میں جنگ ختم ہونے والی ہے ،حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا جیسا انہوں نے وعدہ کیا، نہیں ہو گی تو تباہ کر دیں گے ، پرعزم ہیں کہ غزہ کی تعمیر نو کی جائے ، امریکا ترقی کرے گا تو دنیا ترقی کرے گی۔انہوں نے کہا اس فورم کا مقصد بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے ،59 ممالک مشرقِ وسطیٰ میں امن کی کوششوں میں شامل ہیں اور کئی عالمی رہنما اس فورم کا حصہ بننے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا غزہ سمندر کنارے ایک قیمتی مقام ہے جسے عالمی معیار کے ریزورٹ میں بدلا جا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا بورڈ آف پیس میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کا انتہائی اہم کردار ہے ۔بعد ازاں صدر ٹرمپ نے ڈیووس میں بورڈ آف پیس کے چارٹر پر دستخط بھی کیے ۔ اس موقع پر بحرین اور مراکش کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔صدر ٹرمپ نے دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد انہیں میڈیا کے سامنے پیش کیا، جس کے بعد دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی باری باری آ کر چارٹر پر دستخط کئے ۔
ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے دستخط کرنے پر اظہار تشکر کیا۔امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر نے بتایا کہ ‘‘نیو غزہ’’ منصوبے کے تحت تین سال میں فلک بوس عمارتیں، رہائشی ٹاورز اور جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے گا۔ منصوبے پر کم از کم 25 ارب ڈالر سرمایہ کاری متوقع ہے ۔ حکام کے مطابق دس برس میں غزہ کی معیشت مستحکم ہو کر روزگار اور خوشحالی کا مرکز بن سکتی ہے ۔دریں اثنا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنے رہے ۔دونوں رہنماؤں کی عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی و خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں۔وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ملاقاتیں ہوئیں۔فورم میں شریک رہنماؤں سے وزیرِ اعظم اور فیلڈ مارشل کی غیر رسمی ملاقاتوں کے دوران مسکراہٹوں کے تبادلے اور گرمجوشی دیکھنے میں آئی۔ وزیراعظم شہباز شریف ڈیووس سے پاکستان واپسی سے قبل برطانیہ پہنچ گئے ، ان کے طیارے نے لوٹن کے ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔