محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جاسکتی ،بروقت ترقی اداروں کا فرض :سپریم کورٹ
ریاست بطور آجر ایک ماڈل ایمپلائر،ملازمین کیساتھ اعلیٰ معیار کی شفافیت، انصاف اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے عدالت نے فخر مجید کی سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظورکرلیا، پنجاب سروس ٹربیونل کافیصلہ کالعدم
اسلام آباد(اے پی پی)سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی ، کسی سرکاری ملازم کو محکمہ جاتی غفلت، تاخیر یا نااہلی کا نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا اور اگر وہ ترقی کے لیے اہل ہو تو بروقت غور اس کا قانونی حق ہے ۔ جسٹس عائشہ اے ملک، جسٹس ہاشم خان کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سرکاری ملازم فخر مجید کی سول پٹیشن کو اپیل میں تبدیل کرتے ہوئے منظور کرلیا۔ عدالت نے پنجاب سروس ٹربیونل کا 16 فروری 2024 کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے حکم دیا کہ فخر مجید کو ڈرافٹس مین (BPS-14) کے عہدے پر 21 جنوری 2012 سے ترقی یافتہ تصور کیا جائے کیونکہ اسی تاریخ کو محکمانہ ترقیاتی کمیٹی ہوئی تھی، تاہم بغیر کسی جواز کے درخواست گزار کے کیس پر غور نہیں کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ قانون کے تحت ترقی بذاتِ خود حق نہیں تاہم ترقی کے لیے بروقت غور ہر اہل سرکاری ملازم کا بنیادی حق ہے ۔ عدالت نے واضح کیا کہ محکمے اپنی نااہلی اور تاخیر کو جواز بنا کر قانون کی آڑ نہیں لے سکتے ۔جسٹس عائشہ اے ملک نے فیصلے میں کہا سرکاری اداروں کا فرض ہے کہ وہ ملازمین کی ترقی کے عمل کو شفاف، منصفانہ اور بروقت مکمل کریں۔ طویل عرصے تک کسی افسر کو کرنٹ چارج پر رکھنا اور پھر اسے ترقی سے محروم رکھنا نہ صرف ناانصافی بلکہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 25 کی بھی خلاف ورزی ہے ۔عدالت نے مزید کہا ریاست بطور آجر ایک ماڈل ایمپلائر ہے اور اسے ملازمین کے ساتھ اعلیٰ معیار کی شفافیت، انصاف اور جوابدہی کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔ محکمہ جاتی غفلت کی سزا ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹربیونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فخر مجید کو 21 جنوری 2012 سے ترقی کے تمام مالی و سروس فوائد دینے کا حکم جاری کردیا۔