ساراگند 18ویں ترمیم سے پہلے کا،خفیہ ایجنڈا نہ چلائیں:مراد شاہ
چورکی داڑھی میں تنکا،بیک ڈیٹ لیز منظور کرنیوالے مخالف قرارداد پیش کر رہے
کراچی(سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آگ کے واقعات ہوں یاسیلاب اور بارشیں پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عوام کی دادرسی کی ہے ،سانحہ گل پلازہ کی ایف آئی آر ہوگی اور تمام ذمہ داروں کو سزا ملے گی، فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام امدادی اداروں کو ایک کمان میں دیا جائے گا، مخالفین ہمارے ان فیصلوں پر تنقید ضرور کریں لیکن اپنا خفیہ ایجنڈا مت چلائیں، جن کو سندھ ایک آنکھ نہیں بھاتا وہ ایسا کررہے ہیں۔جمعہ کو سندھ اسمبلی میں سانحہ گل پلازہ پر تفصیلی پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے گل پلازہ کی دو سال میں ازسر نو تعمیر کے علاوہ متاثرہ دکانداروں کے لئے ریلیف کے مختلف اقدمات کا بھی اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ نے پورے ملک کو غمگین کر دیا ہے ،کئی معصوم لوگ آگ کی وجہ سے زندگیاں کھو بیٹھے ، کل 88 افراد لاپتا تھے ، اٹھارہویں ترمیم والے بیانات کے بعد کیا محرکات ہیں اس حوالے سے کچھ بتاؤں گا۔
مراد علی شاہ نے کہا 1984 میں یہ بلڈنگ 99 سالہ لیز پر دی گئی ،1979 میں کے بی سی اے کو اس جگہ پر بلڈنگ بنانے کی درخواست ملی، 1983 میں لیز پوری ہوگئی تھی،سیل ڈیڈ 1983 میں منظور ہوئی، اس وقت اقتدار میں کون تھا، یہ جان لیں، 80 کی دہائی میں بلڈنگ مکمل ہوئی۔ ایوان میں ایم کیو ایم کے ارکان کے احتجاج پر انہوں نے کہا کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ سب گند اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کیا گیا، اس وقت بات سانحے کی ہو رہی ہے اور کوئی شخص کہے کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے ہوا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کون یہ بے ضابطگیاں منظو کر رہا تھا،ایسے سانحے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا ایک جرم ہے ۔انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے نقصانات کا ازالہ کرنے کے لئے تاجروں کی کمیٹی بنادی ہے ، ہر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے فوری طور پر دیں گے ۔سندھ انٹرپرائز لمیٹڈسے متاثرین کے لیے قرضے کی بات کی ہے ، ہر دکاندار کو ایک کروڑ روپے کا قرضہ دیا جائے ۔ وزیراعلیٰ نے گل پلازہ کو گراکراس کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا اور کہا کہ 2 سال میں تعمیر مکمل ہوگی۔انہوں نے کوئی نام لئے بغیر کہا کہ جو بیک ڈیٹ میں لیز کو منظور کرتے ہیں، وہی آج قومی اسمبلی میں اس کے خلاف قرارداد پیش کر رہے تھے ۔